مسئلہ:
قبر میں میت کو مٹی پر لٹانا چاہیے، اس میں میت کے نیچے چٹائی ، چادر اور گدّا وغیرہ بچھانا مکروہِ تحریمی ہے، اس لیے کہ یہ بلا ضرورت مال کو ضائع کرنا ہے، جو شرعاً منع ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” جامع الترمذي “ : وقد روي عن ابن عباس أنه کره أن یلقی تحت المیت في القبر شيء، وإلی هذا ذهب بعض أهل العلم۔
(۲۰۳/۱، أبواب الجنائز، باب ما جاء في الثواب الواحد یلقی تحت المیت في القبر)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولا یجوز أن یوضع فیه مضربة، وما روي عن علي فغیر مشهور لا یوٴخذ به ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: قوله: (ولا یجوز الخ) أي یکره ذلک، قال في الحلیة: ویکره أن یوضع تحت المیت في القبر مضربة أو مخدة أو حصیر أو نحو ذلک ۔ اه ۔ ولعل وجهه أنه إتلاف مال بلا ضرورة، فالکراهة تحریمیة، ولذا عبر بلا یجوز۔ (۱۳۹/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن المیت)
(خیر الفتاویٰ:۲۹۹/۳)
