قربانی کی کھال سے خود فائدہ اٹھانا

مسئلہ:

قربانی کی کھال سے خود فائدہ اٹھانا یا کسی کو دے دینا دونوں جائز ہے، خواہ وہ شخص جس کو یہ کھال دی جارہی ہے مالدار ہو یا فقیر،ہاشمی ہو یا غیر ہاشمی،اپنے اصول و فروع ہوں یا اجنبی،نیزاس میں تملیک بھی واجب نہیں ہے ،اسی لیے خود اپنے لیے اس کا مصلیٰ اورڈول وغیرہ بنا لینا یا کسی اورکام میں لانا جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: { فکلوا منها وأطعموا البائس الفقیر}۔ (الحج :۲۸)

ما في ’’أحکام القرآن للجصاص‘‘: ولما جاز الأکل منھا دل علی جواز الانتفاع بجلودھا من غیر جھة البیع ، ولذلک قال أصحابنا: یجوز الانتفاع بجلد الأضحیّة ، وقال الشعبي: کان مسروق یتخذ مَسک أضحیته مصلّی فیصلي علیه ۔ (۳۱۰/۳)

ما في ’’مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر‘‘: ویتصدق بجلدھا أو یعمله آلة کجراب أو خف أو فرو ۔ 

(مجمع الأنھر في شرح ملتقی الأبحر : ۱۷۴/۴ ، الدر المختار مع الشامیة :  ۳۹۸/۹، البحر الرائق : ۳۲۷/۸)

(فتاوی محمودیه : ۴۶۹/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔