قربانی کے سلسلہ میں ایک غلطی

مسئلہ:

بعض لوگ قربانی کے سلسلہ میں یہ غلطی کرتے ہیں کہ کسی سال اپنی بیوی کے نام سے ، تو کسی سال خود اپنے نام سے، تو کسی سال اپنے گھر کے کسی بڑے فرد کے نام سے قربانی کرتے ہیں، یعنی ہر سال گھر کے کسی ایک ہی فرد کے نام سے قربانی کرتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے گھر کے تمام افراد کے ذمہ سے قربانی کا وجوب ساقط ہوجاتا ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ گھر کا جو جو فرد صاحبِ نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے، محض کسی ایک فرد کے نام سے قربانی کردینے سے تمام اہلِ خانہ کا واجب ادا نہ ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما شرائط الوجب ؛ منها الغنی لما روی رسول الله ﷺ أنه قال: ” من وجد سعة فلیضحّ “ شرط علیه السلام السعة وهي الغنی ۔

(۲۸۳/۶،کتاب التضحیة)

ما في ” الفقه الحنفي في ثوبه الجدید “ : الأضحیة واجبة علی کل حرّ مسلم مقیم موسر في یوم الأضحی عن نفسه۔ (۲۰۰/۵)

ما في ” المحیط البرهاني في الفقه النعماني “ : وشرط وجوبها الیسار عند أصحابنا رحمهم الله، والموسر في ظاهر الروایة من له مائتا درهم أو عشرون دیناراً أو شيء یبلغ ذلک سوی مسکنه ومتاع مسکنه ومتاعه مرکوبه۔ (۴۶۹/۶، کتاب الأضحیة، التنویر وشرحه مع ا لشامیة: ۴۵۴/۹، کتاب الأضحیة، بیروت)

(فتاویٰ محمودیه:۲۳۸/۲۶، مکتبه محمودیه میرٹھ)

اوپر تک سکرول کریں۔