قربانی کے شریکوں میں سے کسی فرد کا وفات پانا

مسئلہ:

اگر سات افراد شریک ہو کر ایک بڑا جانور قربانی کیلئے خریدیں، اور قربانی کرنے سے پہلے ان میں سے ایک شخص مرگیا، مگر مردہ کے بالغ ورثاء نے ان شرکاء کو اجازت دیدی کہ آپ لوگ میت اور اپنی طرف سے قربانی کرلیں، تو ان کا قربانی کرنا جائز ہوگا، اور سب کی قربانی ادا ہوجائے گی،(۱) اور اگر میت کے وارثوں کی اجازت کے بغیر قربانی کریں تو درست نہیں ہوگی، اور کسی بھی شریک کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وإن مات أحد السبعة المشترکین فی البدنة، وقال الورثة: اذبحوا عنه وعنکم، صح عن الکل استحسانا ، لقصد القربة من الکل۔

(۳۹۵/۹، کتاب الأضحیة، دار الکتاب دیوبند)

ما فی ” مجمع الأنهر “ : وإن مات أحد سبعة الذین شارکوا فی البدنة، وقال ورثته وهم کبار: اذبحوا عنکم وعنه، صح ذبحها استحساناً عن الجمیع لوجود قصد القربة عن الکل۔

(۱۷۳/۴، کتاب الأضحیة، البحر الرائق: ۳۲۵/۸، کتاب الأضحیة، الهدایة: ۴۴۹/۴، کتاب الأضحیة)

(۲) ما فی ” الدر المختار “ : لو ذبحوها بلا إذن الورثة لم یجزهم، لأن بعضها لم یقع قربة۔ (۳۹۵/۹)

ما فی ” الهدایة “ : ولو مات واحد منهم فذبحها الباقون بغیر إذن الورثة لا یجزیهم، لأنه لم یقع بعضها قربة۔ (۴۴۹/۴، کتاب الأضحیة)

ما فی ” الدر المنتقی فی شرح الملتقی “ : لو ذبحوها بلا إذن الورثة لم یجزهم۔ (۳۲۶/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔