مسئلہ:
جنا ب نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک اور اس کے بعد کے ادوار میں، منیٰ کی آبادی مکہ مکرمہ کی آبادی سے بالکل الگ اور خاصے فاصلے پر تھی، مکہ معظمہ اور منیٰ کو دو الگ الگ آبادیاں شمار کیا جاتا تھا ،اس لیے اگر کوئی شخص مکہ اور منیٰ دونوں میں ملا کر پندرہ ایام کے قیام کی نیت کرتا تھا تو بھی اس پر مسافر کے احکام جاری ہوتے تھے، اور وہ مقیم کی امامت میں نماز ادا نہ کرنے کی صورت میں قصر کرتا تھا،مگر اب صورتِ حال بدل چکی، مکہ مکرمہ کی آبادی بڑھتے بڑھتے منیٰ تک ہی نہیں بلکہ اس سے آگے پہنچ چکی ،اور منیٰ سرکاری طور پر بھی بلدیہ مکہ مکرمہ کا حصہ بن چکا ہے، جیسا کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے ایک خط کے جواب میں امام وخطیبِ مسجدِ حرام،الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل فرماتے ہیں:
”دورِحاضر میں شہر منیٰ مکہ مکرمہ کا ایک حصہ بن چکا ہے ،اور مکہ مکرمہ کی آبادی نے نہ صرف اس کا احاطہ کیا بلکہ وہ حدودِ عرفہ تک بڑھ چکی، اسی بنا پر منیٰ مکہ مکرمہ کے محلو ں میں داخل ہو چکا، اور منیٰ جانے والا شخص مسافر شمار نہیں ہوتا،اور نہ حاجی کے لیے قصرجائز ہے،او ر نہ منیٰ میں جمع بین الصلوٰتین جائز ہے (ان علماء کے قول کے مطابق جو اس کے قائل ہیں)، کیوں کہ منیٰ میں قصر کی علت سفر ہے، اور منیٰ میں جانے والا شخص حدودِ مکہ سے نکلا ہی نہیں، نیز سعودی حکومت منیٰ کو شہر معظم مکہ مکرمہ کا ایک محلہ ہی گردانتی ہے، اور منیٰ میں تعمیرات سے روکنا مصلحتِ عامہ کی خاطر ہے ۔“(۱)
شیخ کی اس تحریر سے معلوم ہو رہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور منیٰ دونوں بلدِ واحد(ایک شہر) کے حکم میں ہیں ،اس لیے حاجی ان دونو ں مقاموں کے قیام میں پندرہ دنوں کی نیت کرے تو قصر نہیں بلکہ اتمام کر ے گا،جیسے کوئی شخص کسی بڑے شہر کے دو مقاموں میں پندرہ روزکے قیام کی نیت کرے تو وہ مقیم کہلائے گا اور نمازوں میں اتمام کرے گا۔
فقہاء کرام نے اتمام سے جو منع فرمایا تھا، اسکی وجہ اور علت ماضی بعید میں مکہ اور منیٰ دونوں کی آبادیوں کا الگ الگ ہو نا تھا، جو اب ختم ہوچکی ہے ،اور جب علت ِمنع ختم ہو چکی تو ممنوع بھی ختم ہو گا، قاعدہٴ مسلمہ ہے: ” إذا زال المانع عاد الأصل “(جب مانع ختم ہو تو اصل لوٹ آئے گا)، اور قیام کی حالت میں اصل اِتمام ہے۔
صاحب البحرالر ائق ، کنز الدقائق کے متن” لا بمکة ومنیٰ “ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”ماتنِ کنز الدقائق نے ” لا بمکة ومنی“ میں دو شہروں کی قید اس لیے لگائی کہ اگر دو ایسے مقام جو اقامت کی صلا حیت رکھتے ہو ں،میں کوئی شخص پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ مقیم نہیں ہوگا، اس میں اس سے احتراز مقصود ہے کہ اگر ایک ہی شہر کے دو مقاموں، یا ایک ہی گاؤ ں کے دو مقاموں میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرے تو یہ نیتِ اقامت صحیح ہوگی، کیوں کہ ایک شہر کے دو مقام یا ایک گاؤں کے دو مقام حکماً ایک ہی ہیں۔“(۲)
دورِ حاضر میں چوں کہ مکہ اور منیٰ ایک ہی شہر شمار ہورہے ہیں، اس لئے اگر حاجی دونوں مقاموں کے قیام کو ملا کر پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کرتا ہے تو وہ مقیم ہوگا،اور اپنی نمازیں پوری پڑھے گا قصر نہیں کرے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) قال الشیخ محمد بن عبد الله السّبیّل : ” إن منیٰ أصبحت الیوم جزعًا من مدینة مکة بعد أن اکتنفھا بنیان مکة وتجاوزھا إلی حدود عرفة ، وبناء علی ھذا فإنھا قد أصبحت الیوم من احیاء مدینة مکة ، فلا یعد الذاھب إلیھا من مکة مسافرًا ، وبناء علیه فإنه لا یجوز للحاج أن یقصر ولا أن یجمع بھا علی قول من یقول من العلماء : ان العلة في القصر بمنی إنما ھو من أجل السفر ، لأن الذاھب إلی منٰی لم یخرج عن حدود مکة ، إن حکومة المملکة العربیة السعودیة تعد منٰی من مکة علی اعتبار أنھا من احیاء ھا إلا أن الحکومة تمنع البناء فیھا لمصلحة عامة “ ۔(شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتهم کے ایک خط کے جواب میں امام وخطیب مسجد حرام کی تحریر)
(۲) ما في ” البحر الرائق “ : قید بالمصرین ومراده موضعان صالحان للإقامه لا فرق بین المصرین أو القریتین أو المصر والقریة للاحتراز عن نیة الإقامة في موضعین من مصر واحد أو قریة واحدة فإنھا صحیحة لأنھما متحدان حکمًا ، ألا تری أنه لو خرج إلیه مسافرًَا لم یقصر ۔ (۲۳۳/۲ ، کتاب الصلاة ، باب المسافر)
