مسئلہ:
اگر کسی شخص نے قعدہٴ اخیرہ میں تشہد کو مکرر پڑھا تو اس پر سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا، کیوں کہ قعدہٴ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعاء ماثور ہے، اور دعائیں بھی متعدد ہوارد ہوئی ہیں، اس لئے طویل دعاوٴں اور تکرار تشہد سے ایسی تاخیر نہیں ہوتی جس سے سجدہٴ سہو لازم آئے، البتہ قعدہٴ اولیٰ میں تکرارِ تشہد سے تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر ہوتی ہے، اس لئے اس میں تکرار تشہد سے سجدہٴ سہو لازم ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” البحر الرائق “ : لو تکرر التشهد فی القعدة الأخیرة فلا سهو علیه۔(۱۷۲/۲، کتاب الصلوٰة، باب سجود السهو)
ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : لو قرأ فی القعود ۔۔۔۔۔۔ إن کان فی الأخیر فلا سهو علیه لعدم ترک واجب، لأنه موسع له فی الدعاء والشتاء بعده فیه، ولو قرأ التشهد مرتین فی القعدة الأخیرة لا سهو علیه۔ (ص:۴۶۱، کتاب الصلوٰة، باب سجود السهو)
ما فی ” حلبی کبیر“ : لو قرأ التشهد مرتین فی القعدة الأخیرة أو تشهد قائماً أو راکعاً أو ساجداً لا سهو علیه، کذا فی المختار علی ما ذکره الإسبیجابی۔
(ص:۴۶۰، کتاب الصلوٰة، فصل فی سجود السهو)
ما فی ” البحر الرائق “ : لو کرر التشهد فی القعدة الأولیٰ فعلیه السهو لتأخیر القیام۔ (۱۷۲/۲، کتاب الصلوٰة، باب سجود السهو)
(فتاوی محمودیه: ۴۳۵/۷)
