قعدہٴ اولیٰ چھوڑدینے سے سجدہٴ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

(فتویٰ نمبر: ۱۰۱)

سوال:

ظہر کی نماز میں امام صاحب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بجائے تیسری رکعت کے لیے پورے کھڑے ہوگئے ، مقتدی نے پیچھے سے لقمہ دیا ،امام صاحب واجب کی طرف لوٹ آئے اور بیٹھ گئے، نماز پوری ہونے پر سجدہٴ سہو کیا ،فر ض کو ترک کرکے واجب کو ترجیح دی،تو سجدہٴ سہو سے نماز ہوگئی،یا یہ کہ نماز کو لوٹانا چاہیے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱/اگر امام صاحب قعدہٴ اولیٰ بھول کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوجائے، پھر یاد آئے تو اب بیٹھنا نہیں چاہیے ، اور اگر مقتدیوں کے لقمہ دینے پر بیٹھ بھی گئے، تو اصح وارجح قول کے مطابق نماز فاسد نہیں ہوگی ، لیکن سجدہٴ سہو لازم ہوگا، کیوں کہ یہاں فرض متروک نہیں ہو ا بلکہ موٴخر ہوا ، نیز یہ اعلیٰ(قیام) سے ادنیٰ(قعدہٴ اولیٰ) کی طرف رجوع کرناترکِ اعلیٰ کے لیے نہیں، بلکہ اعلیٰ کو کامل طریقے پر ادا کرنے کے لیے ہے۔(۱)

۲/سجدہٴ سہو سے نماز ہوگئی اعادہ کی ضرورت نہیں۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (سها عن القعود الأول من الفرض ، ثم تذکر عاد إلیه ما لم یستقم قائماً وإلا لا ) یعود لاشتغاله بفرض القیام (وسجد للسهو) لترک الواجب (فلو عاد إلی القعود) بعد ذلک (تفسد صلا ته) لرفض الفرض لما لیس بفرض وصححه الزیلعي ۔ (وقیل لا) تفسد ، لکنه یکون مسیئًا ، ویسجد لتأخیر الواجب (وهو الأشبه) کما حققه الکمال وهو الحق ۔ بحر ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (لتأخیر الواجب) الأولی أن یقول : لتأخیر الفرض وهو القیام أو لترک الواجب وهو القعود ۔۔۔۔۔۔ قوله : (وهو الحق) کأن وجهه ما مر عن الفتح ، أو ما في المبتغی من أن القول بالفساد غلط؛ لأنه لیس بترک ، بل هو تأخیر ۔

(۵۴۷/۲ ، ۵۴۹ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو ، ط: بیروت، وکذا في حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح : ص/۴۶۷ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو، ط : مکتبة شیخ الهند دیوبند ، البحر الرائق : ۲/ ۱۷۸، ۱۷۹، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو)

(۲) ما في ” المبسوط للسرخسي “ : (ومن سها عن قیامٍ أو قعود فعلیه سجود السهو) لحدیث المغیرة بن شعبة رضي اللّٰه عنه : أن النبي ﷺ قام من الثانیة إلی الثالثة ، ولم یعد فسبحوا له فلم یعد وسجد لسهوه۔(۳۸۴/۱ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو ، ط :دارالکتاب العلمیه بیروت) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۲۴ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔