قنوتِ نازلہ میں شریک مسبوق کی نماز

مسئلہ:

قنوتِ نازلہ پڑھنے کی حالت میں جو مسبوق امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوں، وہ تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بعد قیام کی حالت میں امام کی دعا پر آہستہ آہستہ آواز میں آمین کہتے رہیں، اور اُن کی یہ رکعت شمار نہیں ہوگی، کیوں کہ ان کی شرکت امام کے رکوع سے اُٹھ جانے کے بعد ہوئی ہے، لہٰذا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی دونوں رکعتوں کو حسبِ قاعدہ پوری کریں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : والذي یظهر لي أن المقتدی یتابع إمامه، إلا إذا جهر فیوٴمن وأنه یقنت بعد الرکوع لا قبله ۔۔۔۔۔۔۔ وفیه التصریح بالقنوت بعد الرکوع حمله علماوٴنا علی القنوت للنازلة، ثم رأیت الشرنبلالي في ” مراقي الفلاح “ صرح بأنه بعده۔

(۴۴۹/۲، باب الوتر والنوافل، مطلب في القنوت للنازلة، مراقي الفلاح:ص/۳۷۶، کتاب الصلاة، باب الوتر وأحکامه)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولو اقتدی بإمام راکع فوقف حتی رفع الإمام رأسه لم یدرک الموٴتم الرکعة، لأن المشارکة في جزء من الرکن شرط، ولم توجد فیکون مسبوقًا فیأتي بها بعد فراغ الإمام۔

(۵۱۶/۲، باب إدراک الفریضة، مطلب هل الإساءة دون الکراهة أو أفحش، الهدایة: ۱۵۳/۱، باب إدراک الفریضة، الفتاوی الهندیة:۱۲۰/۱، کتاب الصلاة، الباب العاشر في إدراک الفریضة)

اوپر تک سکرول کریں۔