مسئلہ:
ایک شخص کا کسی کے ذمہ قرض تھا، ابھی اس نے قرض وصول نہیں کیا تھا کہ اُس قرض خواہ کا انتقال ہوگیا، اور اس کا کوئی وارث بھی نہیں ہے، تو اب قرض دار پر ضروری ہے کہ وہ اس لاوارث میت کی جانب سے اس کا وہ مال (جو اس کے ذمہ قرض تھا) صدقہ کردے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” شرح کتاب الفقه الأکبر “ : وفي فتاوی قاضیخان: رجل له حق علی خصم فمات ولا وارث له تصدق عن صاحب الحق بقدر ماله علیه لیکون ودیعة عند الله یوصلها إلی خصمانه یوم القیامة۔(ص:۲۶۵، مسألة في التوبة وشرائطها وفیها أبحاث جلیلة، فتاوی قاضیخان:۲۷۷/۴، کتاب الغصب، فصل في براءة الغاصب والمدیون)
(فتاویٰ فریدیہ: ۵۰۵/۴۔۵۰۶)
