لڑکی کا قرآن کریم حفظ کرنا

مسئلہ:

قرآن کریم یاد کرنا بڑی سعادت مندی کی بات ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس پر بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں(۱)، البتہ قرآن کریم یاد کرنے کے بعد بھُلا دینے پر بھی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں(۲)، اس لیے اگر کوئی لڑکی قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد پڑھنے اور یاد رکھنے کا اہتمام کرسکتی ہو، تو وہ بلاشبہ حفظ کرسکتی ہے، مگر لڑکیاں عام طور پر گھریلو مصروفیت اور شرعی معذوری کی وجہ سے بھول جاتی ہیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ بجائے پورا قرآن کریم حفظ یاد کرنے کے چند مخصوص سورتیں یاد کرلیں، یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہے(۳)، اور ان سورتوں کا یاد رکھنا بھی اتنا مشکل نہ ہوگا، جتنا پورے قرآن کریم کو یاد رکھنا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن عثمان رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: ”خیرکم من تعلم القرآن وعلمه“۔

(۷۵۲/۲، کتاب فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمه، رقم الحدیث:۵۰۲۷)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله ﷺ: ” ما من امرئ یقرأ القرآن ثم ینساه إلا لقي الله یوم القیامة أجذم “۔رواه أبو داود والدارمي۔

(ص:۱۹۱، کتاب فضائل القرآن)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسیه فإنه یأثم، وتفسیر النسیان أن لا یمکنه القراءة من المصحف۔

(۳۱۷/۵، کتاب الکراهیة، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح وقراءة القرآن الخ)

(۳) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وحفظ جمیع القرآن فرض کفایة۔(۲۵۸/۲، باب صفة الصلاة، مطلب في الفرق بین فرض العین الخ)

(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ :۱۴۶۳۴)

اوپر تک سکرول کریں۔