مالِ حرام سے جہیز دینا

مسئلہ:

اگر کسی شخص نے اپنی بیٹی کو سامانِ جہیز دیا اور اس کے متعلق معلوم ہو کہ یہ پورا سامانِ جہیز ناجائز وحرام آمدنی ہی سے خریدا گیا تھا، تو اس کا استعمال نہ بیٹی کے لیے جائز ہے ، اور نہ اس کی اجازت سے اس کے شوہر کے لیے، اور اگر یہ سامانِ جہیز حلال وحرام دونوں مال سے خریدا گیا، اور یہ معلوم نہیں ہے کہ کونسا سامان حلال مال سے خریدا گیا، اور کونسا حرام مال سے، تو پھر غلبہ کا اعتبار ہوگا، اگر سامانِ جہیز کی خریدی میں زیادہ مال حلال کا ہے، تو اس کے استعمال میں مضائقہ نہیں، اور اگر زیادہ مال حرام کا ہے، تو اس کواستعمال نہیں کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة “ : وإن علم أنه مغصوب بعینه لا یحل أن یأکل لأنه علم بالحرمة ۔۔۔۔۔ قال الناطفي رحمه الله تعالی: إذا أهدی الرجل إلی إنسان أو أضافه إن کان غالب مال المهدی من الحرام ینبغي له أن لا یقبل الهدیة، ولا یأکل من طعامه ما لم یخبر أنه حلال، ورثه أو استقرضه من غیره، وإن کان غالب مال المهدی من الحلال لا بأس بأن یقبل الهدیة، ویأکل ما لم یتبین عنده أنه حرام، لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فیعتبر الغالب۔

(۴۰۰/۳، الحظر والإباحة، وما یکره أکله وما لا یکره وما یتعلق بالضیافة، ط: رشیدیه وزکریا، الفتاوی الهندیة:۳۴۲/۵، کتاب الکراهیة، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات، مجمع الأنهر:۱۸۶/۴، کتاب الکراهیة، فصل في الکسب) 

(فتاویٰ محمودیہ : ۴۱۹/۱۸، ط: کراچی)

اوپر تک سکرول کریں۔