مالِ میراث میں سے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی کو کم یا زیادہ دینا

(فتویٰ نمبر:۱۴۷)

سوال:

۱– مرحوم زید بھائی کا انتقال ہوئے کافی عرصہ ہوچکا ہے، مرحوم نے اپنے ورثا میں تین لڑکے، چار لڑکیاں اور ایک بیوہ چھوڑی،اور ترکہ میں صرف پانچ بیگھہ زمین چھوڑی تھی، وہ زمین مرحوم کی بیوہ نے دیگر ورثا کی اجازت سے پندرہ لاکھ روپے میں بیچ دی، تو کیا بیوی مذکورہ پندرہ لاکھ روپے اپنی مرضی سے استعمال کرسکتی ہے یا نہیں؟

۲– کیا اپنی مرضی سے لڑکایا لڑکی میں سے کسی کو کم زیادہ دے سکتی ہے یا نہیں؟ نیز پندرہ لاکھ روپے میں سے ہر وارث کو کتنا کتنا حصہ از روئے شرع ملے گا؟

۳– مذکورہ تقسیم کے بعد مرحوم کے حجِ بدل کے لیے لڑکے اور لڑکیوں کے حصے میں سے کچھ رقم واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر لڑکا لڑکی مرحوم کے حجِ بدل کے لیے رقم واپس نہ دے، تووہ گنہگار ہوں گے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– بعد تقدیمِ ما یقدم علی الارث، صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ (پانچ بیگھہ زمین جو پندرہ لاکھ روپے میں فروخت ہوئی) کواسی(۸۰) حصوں میں تقسیم کرکے،دس حصے ان کی بیوہ کو،یعنی ایک لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو(۱۸۷۵۰۰)روپے(۱)، اور چودہ چودہ حصے ان کے تینوں لڑکوں میں سے ہر لڑ کے کو،یعنی دو لاکھ باسٹھ ہزار پانچ سو (۲۶۲۵۰۰)روپے، اور سات سات حصے ان کی چاروں لڑکیوں میں سے ہر لڑکی کو ،یعنی ایک لاکھ اکتیس ہزار دو سو پچاس (۱۳۱۲۵۰)روپے،از روئے شرع ملیں گے۔(۲)

بیوہ نے جو پانچ بیگھہ زمین پندرہ لاکھ روپے میں فروخت کی ہے، وہ اس پوری رقم کی مالک نہ ہونے کی وجہ سے اس کو اپنی مرضی سے استعمال نہیں کرسکتی ۔(۳)

۲– بیوہ کا اپنی مرضی سے کسی کو کم زیادہ دینا، ناجائز اور حرام ہے، کیوں کہ یہ تقسیم اللہ کی جانب سے مقرر شدہ ہے ،اس میں کمی بیشی کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔(۴)

۳– مذکورہ تقسیمِ شرعی کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں سے مرحوم کے حجِ بدل کے لیے ان کی مرضی کے بغیر کچھ رقم واپس لینا شرعاً جائز نہیں ہے(۵)،اگر ورثا مرحوم کے حجِ بدل کے لیے اپنے حصے میں سے کچھ حصہ دینے پر راضی ہوں، جس سے مرحوم کا حج بدل ادا ہوسکے، تو یہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا، اور حجِ بدل جائز ہوگا۔(۶)

لڑکا لڑکی مرحوم کے حجِ بدل کے لیے رقم نہ دیں، تو گنہگار نہیں ہوں گے،کیوں کہ تبرع کا حکم یہ ہے کہ کیا تو ثواب کا مستحق اور نہ کیا تو کوئی گناہ وموٴاخذہ نہیں۔(۷)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾۔(سورة النساء : ۲۹)

(۴) ما في ” کنز العمال “ : ” من قطع میراثًا فرضه اللّٰه تعالی قطع اللّٰه میراثه من الجنة “ ۔ (۱۱/۵ ، کتاب الفرائض ، رقم : ۳۰۳۹۷)

ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : ﴿فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰه﴾ فیه إشارة إلی وجوب الانقیاد لهذه القسمة التي قدرها الشرع وقضی بها ۔ (۵۱۹/۳)

(۵) ما في ” شعب الإیمان للبیهقي “ : ” لا یحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفس منه “ ۔(۳۸۷/۴ ، رقم : ۵۴۹۲ ، مشکوة المصابیح :۲۵۵/۲ ، کتاب الغصب والعاریة)

(۶) ما في ” فتح القدیر “ : إذا حج عن أبویه فإن له أن یجعله عن أیهما شاء ؛ لأنه متبرع بجعل ثواب عمله لأحدهما أو لهما ، فیبقی علی خیاره بعد وقوعه سببًا لثوابه ۔

(۱۳۹/۳ ، کتاب الحج ، باب الحج عن الغیر)

(۷) ما في ” موسوعة مصطلحات الفقهیة عند المسلمین “ : المندوب : ما یتعلق الثواب بفعله ، ولا یتعلق العقاب بترکه ۔

(ص/۱۵۷۳ ، رد المحتار : ۸۴/۱ ، ط: مکتبه نعمانیه دیوبند) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۲۶ھ

اوپر تک سکرول کریں۔