مسئلہ:
بعض طلباء اپنے طور پرگا ڑی کرایہ پر لیتے ہیں پھر دوسرے طلبا ء سے اتنا کرایہ وصول کرتے ہیں کہ گاڑی کا کرایہ ادا کرنے کے بعد بھی کچھ رقم باقی رہتی ہے جسے وہ رکھ لیتے ہیں شر عاً یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کایہ عمل اجارہ ٔثانیہ ہے اور جب اجارۂ اولیٰ وثانیہ دونو ں کی اجرت ہم جنس ہو تو اجارۂ ثا نیہ میں اجارہ ٔاولیٰ کی اجرت سے زائد اجرت لینا جائزنہیں ہے، لیکن اگر یہ طلباء اپنے سا تھیوں کی طرف سے وکیل یا دلال بن کر گاڑی کرایہ پر لے لیں اور پہلے سے اپنی محنت کی اجرت متعین کریں تو وہ اپنی متعینہ اجرت کے حقدار ہونگے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في’’ الموسوعة الفقھیة ‘‘: وذھب الحنفیة إلی جواز الإجارة الثانیة إن لم تکن الاجرة فیها من جنس الأجرة الأولیٰ للمعنی السابق أمــا إن اتحد جنس الأجرتین فإن الزیادة لا تطیب للمستأجر وعلیه أن یتصدق وصحت الإجارة الثانیة لأن الفضل فیه شبھة ۔ (۲۶۸/۱)
ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: وإذا استأجر دارًا وقبضھا ثم أجرھا فإنه یجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل وإن آجرها بأکثر مما استأ جرها فهي جائز أیضا إلا أنه إن کانت الأجرة الثانیة من جنس الأجرة الأولٰی فإن الزیادة لا تطیب له ویتصدق بها وإن کانت من خلاف جنسها طابت له الزیادة في إجارة المستأجر ۔ (۴۲۵/۴)
ما في ’’الفقه الإسلامي وأدلته‘‘: تصح الوکالة بأجر وبغیر أجر لأن النبي ﷺ کان یبعث عماله لقبض الصدقات ویجعل لهم عمولة ولأن الوکالة عقد جائز لا یجب علی الوکیل القیام بها فتجوز أخذ الأجرة فیها ۔ (۴۰۵۸/۵)
