مسئلہ:
اگر کسی مجنون وپاگل شخص کا انتقال ہوجائے، تو اگر مجنون کی یہ بیماری پیدائشی یا بچپن سے چلی آرہی ہو، حتی کہ بالغ ہونے تک وہ صحت یاب نہیں ہوا، تو ایسا شخص نابالغوں کے زُمرے میں شمار ہوگا، اور اس کی نمازِ جنازہ میں نابالغوں کی دعا پڑھی جائے گی، اور اگر یہ جنون بلوغت کے بعد اس پر طاری ہوا ہو، تو پھر جنون اگرچہ معاصی کے لیے دافع ہے، لیکن مُزیل نہیں، اس لیے مدتِ بلوغت کے ایامِ صحت کی رعایت کرتے ہوئے، یہ شخص بالغ شمار ہوگا، اور اس کی نمازِ جنازہ میں بالغوں کی دعا پڑھی جائے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” حلبي کبیر “ : والمجنون کالطفل ذکره في المحیط وینبغي أن یقید بالجنون الأصلي لأنه لم یکلف فلا ذنب له کالصبي بخلاف العارضي فإنه قد کلف وعروض الجنون لا یمحو ما قبله بل هو کسائر الأمراض ورفعه للتکلیف إنما هو فیما یأتي لا فیما مضی ۔ اه ۔(ص:۵۸۷، فصل في الجنائز، الرابع في الصلاة علیه)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (ولا یستغفر فیها لصبيّ ومجنون) ۔ تنویر مع الدر۔ وفي الشامیة: قوله: (ومجنون ومعتوه) هذا في الاصلي، فإن الجنون والعته الطارئین بعد البلوغ لا یسقطان الذنوب السالفة کما في شرح المنیة۔
(۱۱۳/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب هل یسقط فرض الکفایة بفعل الصبي؟، حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح: ص/۵۸۷، باب أحکام الجنائز، فصل الصلاة علیه)
(فتاویٰ حقانیہ:۴۳۹/۳، خیر الفتاویٰ:۳۱۰/۳)
