مسئلہ:
مختلف ملکوں کی کرنسی کا کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز ہے، بشرطیکہ کم از کم ایک فریق اپنے روپے پر مجلس بیع میں ہی قبضہ کرے، لیکن اس صورت میں اتنی بات یاد رہے کہ یہ معاملہ ادھار کا ہو، تو مبادلہ کیلئے ثمن مثل کو ضروری قرار دیا جائے، یعنی معا ملہ کے دن کرنسی کا جو نرخ مارکیٹ میں ہے، اسی کو معیار بناکر معاملہ کیا جائے، تا کہ سود کا دروازہ بند ہوجائے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” المستدرک للحاکم “ : عن ابن عمر أن النبی ﷺ نهی عن بیع الکالی بالکالی، وهو النسیئة بالنسیئة۔ (۶۵/۲۔۶۶، رقم الحدیث: ۲۳۷۳)
ما فی ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرماً، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجباً۔ (ص:۴۶)
(فتاویٰ عثمانی : ۱۴۴/۳)
