مخطوبہ کو دیکھنا شرعاً کیسا ہے؟

مسئلہ:

اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ پہلے ایک نظر اس کو دیکھ لے، تو شریعت نے اس کی گنجائش دی ہے، کہ کہیں موقع مل جائے تو چھپ چھپا کر دیکھ لیں ، حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو پیغام نکاح دینا چاہتا ہے، تو اگر ممکن ہو تو اسے دیکھ لیں “۔(۱)

حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحبؒ فرماتے ہیں : ” صاف صاف مطالبہ کرنا کہ مجھے دکھاوٴ میں خود دیکھ لوں گا، تو یہ مناسب نہیں ہے، کیوں کہ اگر ہر شخص صاف صاف دیکھنے کا مطالبہ کرے اور یہ دروازہ کھو ل دیا جائے، تو نہیں معلوم ایک ایک لڑکی کو شادی کرنے کیلئے کتنے کتنے لڑکوں کو دکھانے کی نوبت آئے گی، ایک ناپسند کرے اس کی بھی شہرت ہوگی، اس سے احباب ناپسندیدگی کی وجہ دریافت کر یں گے، وہ اسی کا حلیہ پوری تفصیل سے بتائے گا، گھوڑی اور گائے کی سی کیفیت ہوجائے گی کہ گاہک آتے ہیں، دیکھتے ہیں، ناپسند کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” بذل المجهود “ : عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله ﷺ: ” إذا خطب أحدکم المرأة، فإن استطاع أن ینظر إلی ما یدعوه إلی نکاحها فلیفعل “۔

(۲۸۴/۱، کتاب النکاح ، باب الرجل ینظر إلی المرأة وهو یرید تزویجها)

(۲) ما فی ” اعلاء السنن “ : فدل علی أنه لا یجوز له أن یطلب من أولیاء ها أن یحضروها بین یدیه لما فی ذلک من الاستخفاف بهم، ولا یجوز ارتکاب مثل ذلک لأمر مباح، وقد یفضی ذلک إلی مفاسد عظیمة کما لا یخفیٰ، وإنما یجوز له أن یتخبا لها وینظر إلیها خفیة۔(۳۸۴/۱۷، کتاب الحظر والإباحة، باب جواز النظر إلی المخطوبة)

(فتاوی محمودیه:۴۵/۱۶)

اوپر تک سکرول کریں۔