مخلوط مال سے حج کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

اگر کوئی شخص اپنی کچھ رقم ڈاکخانہ یا بینک میں فکس ڈپازٹ کے طور پر رکھے اور چند سالوں کے بعد وہ رقم ڈبل ہو جائے، تو جتنی رقم اس نے جمع کی تھی وہ اتنی ہی رقم کا حقدار ہے اور اس کیلئے اسکا استعمال جائز ہے۔

البتہ جو رقم زائد ملی اسکا استعمال اپنے کسی مصرف میں جائز نہیں ،چہ جائیکہ حج جیسے مقدس فرض کی انجام دہی میں، کیوں کہ یہ تو گناہ بالائے گناہ ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: { یآیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم} ۔ (النساء:۲۹)

وقال تعالی: {أحل الله البیع وحرم الربوا} ۔ (البقرة:۲۷۵)

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: فإن الحج عبادة مرکبة من عمل البدن والمال، ولذا قال في البحر: ویجتهد في تحصیل نفقة حلال فإنه لا یقبل بالنفقة الحرام مع أنه یسقط الفرض عنھا ۔(۴۰۲/۳)

ما في ’’الدر المنتقی في شرح الملتقی‘‘: قوله: وقدره زاد وراحلة مختصة به أو شق محمل في حق الآفاقي فلا تجب بإباحة ولا بمال حرام لکن لو حج به جاز لأن المعاصي لا تمنع الطاعات فإذا أتی بها لایقال انها غیر مقبولة۔ (۳۸۵/۱، الفتاوی الهندیة:۲۲۰/۱

(فتاوی محمودیه:۱۰/۳۱۱)

اوپر تک سکرول کریں۔