(فتویٰ نمبر: ۱۵۲)
سوال:
ہمارے والد صاحب نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا تھا جس کو ابھی ہم نے بیچ دیا اور قیمت بھی ہمارے پاس آگئی ہے، ہماری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے ،ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھیں، ان میں سے ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال والد صاحب کے انتقال کے بعد ہوا تھا، بھائی کے وارثین میں چار لڑکے اور ایک لڑکی ہے، مرحومہ بہن کا کوئی وارث نہیں ہے، تو مرحومہ بہن کے حصے میں آئی ہوئی رقم سے ہمارے والد صاحب کا حج بدل کرسکتے ہیں یانہیں؟ یا اس رقم سے میرے یا آپ جیسے کسی حاجت مند کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں ؟
نوٹ-: پہلے والد صاحب، پھر بہن، پھر والدہ اور پھر بھائی کا انتقال ہوا۔
مذکورہ صورتوں میں کس کو کتنا حصہ ملے گا؟ اور ہم اس کو کس طرح استعمال کرسکتے ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-بعد تقدیمِ ما یقدم علی الارث، صورتِ مسئولہ میں والد کا کل ترکہ اڑتالیس(۴۸) حصوں میں تقسیم ہوکر،چھ حصے زوجہ یعنی آپ کی والدہ کو، اور چودہ چودہ حصے دونوں لڑکوں کو ،اور سات سات حصے دونوں لڑکیوں کو ازروئے شرع ملیں گے۔(۱)
۲-آپ کی بہن کا کل ترکہ چھ حصوں میں تقسیم ہوکر ایک حصہ آپ کی والدہ کو اور دو دو حصے دونوں بھائیوں کو، اور ایک حصہ بہن کو از روئے شرع ملے گا۔(۲)
۳-آپ کی والدہ کا کل ترکہ پانچ حصوں میں تقسیم ہوکر، دو دو حصے دونوں لڑکوں کو ،اور ایک حصہ ایک لڑکی کو ازروئے شرع ملے گا۔(۳)
۴-مرحومہ بہن کے حصے سے والدِ مرحوم کا حجِ بدل کرانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ مرحومہ بہن کا حصہ اس کے ورثا کا حق ہے، لہٰذا ان کی اجازت کے بغیر حجِ بدل کرانا جائز نہ ہوگا(۴)،ہاں! اگر ورثا اس کی اجازت دیں، تو جائز ہوگا، اور یہی حکم کسی حاجت مند کی حاجت روائی کا ہوگا،اگر ورثا اس کی اجازت دیں، تو جائز ہوگا، ورنہ نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء :۱۱)
(۲) ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما للأم فأحوال ثلاث : السدس مع الولد أو ولد الإبن وإن سفل أو مع الاثنتین من الإخوة والأخوات فصاعدًا من أي جهة کانا۔
(ص/۱۹)
ما في ” السراجي في المیراث “ : العصبات النسبیة : ۔۔۔۔۔ ثم جزء أبیه أي الإخوة ثم بنوهم وإن سفلوا ۔ (ص/۲۲)
وما في ” السراجي في المیراث “ : وأما للأخوات لأب وأم : ۔۔۔۔۔ مع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الأنثیین یصرن به عصبةً لاستوائهم في القرابة إلی المیت ۔ (ص/۱۶)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔ (سورة النساء :۱۱)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالِکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾۔(سورة النساء : ۲۹)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : نهی لکل أحد عن أکل مال نفسه ومال غیره بالباطل ۔ (۲۱۶/۲)
ما في ” مشکوة المصابیح “ :عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم:” ألا ! لا تظلموا ، ألا ! لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه“
(ص/۲۵۵، کتاب البیوع، باب الغصب والعریة، الفصل الثاني)
(شعب الإیمان للبیهقي:۳۸۷/۴ ، رقم : ۵۴۹۲ ،الباب الثامن والثلاثون)
ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه۔(۹۶/۱ ، قواعد الفقه :ص/۱۱۰ ،القواعد الفقهیة :رقم القاعدة :۲۷۰) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۲/۳ھ
