مرد وعورت کا آپس میں جھوٹا کھاناپینا

مسئلہ:

میاں بیوی اور مَحرم مَردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کا جھوٹا کھانا پینا جائز ہے(۱)، البتہ اجنبی مَردوں اور عورتوں کا جھوٹا کھانا پینا فتنے کے اندیشہ کی بنا پر مکروہ ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن عائشة قالت: ” کنت أشرب وأنا حائض ثم أناوله النبي ﷺ فیضع فاه علی موضع فيّ فیشرب، واتعرّق العرق وأنا حائض ثم أناوله النبي ﷺ فیضع فاه علی موضع فيّ “ ۔

(۱۴۳/۱، کتاب الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها وترجیله وطهارة سؤرها الخ، رقم الحدیث:۳۰۰، سنن أبی داود:ص/۳۴، کتاب الطهارة، باب في مؤاکلة الحائض ومجامعتها)

(۲)ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : یکره للمرأة سوٴر الرجل وسوٴرها له ۔ در ۔ وفي الشامیة: وقال الرملي: یجب تقییده بغیر الزوجة والمحارم۔

(۶۱۱/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع)

(آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۳۹۴/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔