مرنے والے کے عیوب بیان کرنے کا حکم شرعی

مسئلہ:

بعض لوگ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی برائی کرتے ہیں کہ وہ ایسا تھا، وہ یوں تھاوغیرہ ، جب کہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو معاف کردینا چاہیے، کیوں کہ ”کفنوں کو میلا کرنے“ اور ”پھٹے میں ٹانگ اَڑانے“ سے کچھ ہاتھ نہیں آتا،اُن کو اُجلا رہنے دینا ہی بہتر ہے،ایک دن ہمیں بھی قبر کی گود میں جانا ہے، تب ہمیں بھی زمانے سے یہی توقع ہوگی کہ وہ ہمارے کفن پر داغ نہ آنے دے، ویسے بھی” قبروں کی مٹی اڑانا “ باعظمت لوگوں کا کام نہیں، نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی بے کَراں ہے کہ خیال سے بھی ماوراء ہے، لہٰذا آپ ﷺ کے فرمان : ” اُذْکُرُوْا مَحَاسِنَ مَوْتَاکُمْ ، وَکُفُّوْا عَنْ مَسَاوِیْہِمْ“ کہ ”اپنے مرنے والے لوگوں کے محاسن بیان کرو اور ان کی سیئات پر اپنی زبانیں بند رکھو“پر عمل کرتے ہوئے ہمیں مرنے والے شخص کے عیوب بیان کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” جامع الترمذي “ : عن ابن عمر، أن رسول الله ﷺ قال: ” اذکروا محاسن موتاکم، وکفوا عن مساویهم “۔

(۱۳۱/۲، رقم الحدیث:۱۰۱۹، کتاب الجنائز، بیروت، العرف الشذي:۳۲۴/۲، دار احیاء التراث العربی بیروت، عارضة الأحوذي: ۱۸۸/۳ ، بیروت، سنن أبي داود: ص/۶۷۱، رقم الحدیث:۴۹۰۰ ، قدیمي)

ما في ” تحفة الأحوذي “ : (وکفوا) أمر للوجوب، أي: امتنعوا (عن مساویهم) ۔۔۔۔۔۔ قال حجة الإسلام: غیبة المیت أشدّ من الحيّ، وذلک لأن عفو الحيّ واستحلاله ممکن ومتوقع في الدنیا بخلاف المیت۔ (۸۰/۴ ، رقم الحدیث: ۱۰۱۹، دار احیاء التراث العربي بیروت، مؤسسة الرسالة بیروت)

ما في ” بذل المجهود “ : (وکفوا) الأمر للوجوب (عن مساویهم) ۔۔۔۔۔ فإن ذکر السوء غیبة لهم وهي کبیرة لا سبیل إلی عفوها، فوبالها لازم، فلا یرجی استحلاله۔

(۳۰۹/۱۳، رقم الحدیث:۴۹۰۰، کتاب الأدب، باب في النهي عن سبّ الموتی، دار البشائر الإسلامیة بیروت، عون المعبود: ص/۲۱۱۱، بیت الأفکار الدولیة، الأردن)

ما في ” سنن أبي داود “ : عن عائشة (رضي الله عنها) قالت: قال رسول الله ﷺ: ”إذا مات صاحبکم فدَعُوْه، ولا تقعوا فیه “۔ (ص:۶۷۱)

اوپر تک سکرول کریں۔