مریض قیام پرقادر نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے

مسئلہ

اگر مریض قیام پر قادر نہیں مگر بیٹھ کر رکوع وسجدہ پر قادر ہے، تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز پڑھے، خواہ وہ جس طرح بھی بیٹھے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’نصب الرایة‘‘: عن علي بن أبي طالب کرم الله وجھه عن النبي ﷺ قال: ’’ یصلي المریض قائماً فإن لم یستطع صلی قاعداً فإن لم یستطع  أن یسجد أومأ وجعل سجوده أخفض من رکوعه فإن  لم یستطع أن یصلي قاعداً صلی علی جنبه الأیمن مستقبلة القبلة فإن لم یستطع صلی مستلقیا رجلاه مما یلي القبلة ‘‘۔ (۱۷۹/۲)

ما في ’’ الجوهرة النیرة ‘‘: إذا تعذر علی المریض القیام صلّی قاعداً یرکع ویسجد، قوله: صلی قاعداً یعني یقعد کیف تیسّر علیه ۔ (۲۰۴/۱)

ما في ’’ خلاصة الفتاوی‘‘: المریض إذا عجز عن القیام وقدر علی القعود برکوع وسجود فإنه یصلي قاعداً برکوع وسجود ولا یجزیه غیر ذلک ۔ (۱/۶ ۱۹)

ما في ’’ الفتاوی الهندیة ‘‘: إذا صلی المریض قاعداً کیف یقعد الأصح أن یقعد کیف تیسّرعلیه ۔ (۱/ ۱۳۶، الباب الرابع عشر في صلاة المریض)

اوپر تک سکرول کریں۔