مسئلہ:
جس مریض کے کپڑے ناپاک ہوں، اور ان کا پاک کرنا یا بدلنا اس کیلئے ممکن نہ ہو، اور اس کے پاس کوئی دوسرا شخص موجود نہ ہو، جو اس کے کپڑوں کو پاک کردے یا بدل دے، تو اس کیلئے ان ہی ناپاک کپڑوں میں نماز ادا کر لینا درست ہے(۱)، اور اگر دوسرا شخص موجود ہو جو مریض کے کپڑے پاک یا تبدیل کرادیگا، تو ایسی صورت میں دوسرے کی مدد سے پاک لباس پہن کر نماز پڑھنا ضروری ہے، بشرطیکہ مریض کو لباس بدلنے میں غیر معمولی مشقت نہ ہوتی ہو(۲)، ورنہ انہیں کپڑوں میں نماز پڑھنا درست ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : مریض تحته ثیاب نجسة ، وکلما بسط شیئاً تنجس من ساعته صلی علی حاله ، وکذا لو لم یتنجس إلا أنه یلحقه مشقة بتحریکه (وإن سال علی ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا یغسله إن کان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي الصلاة وإلا یتنجس قبل فراغه فلا یجوز ترک غسله ، هو المختار للفتوی ، وکذا مریض لا یبسط ثوباً إلا تنجس فوراً له ترکه ۔ در مختار۔ وفي الشامیة: قال الشامی تحت قوله : (وکذا مریض) فی الخلاصة : مریض مجروح تحته ثیاب نجسة إن کان بحال لا یبسط تحته شيء إلا تنجس من ساعته له أن یصلی علی حاله، وکذا لو لم یتنجس الثاني إلا أنه یزداد مرضه له أن یصلی فیه ۔ ”بحر“ من باب صلوٰة المریض ۔
(۵۰۲/۳ ، کتاب الصلاة ، قبیل باب سجود التلاوة ، ۴۳۹/۱ ، ۴۴۰ ، کتاب الطهارة ، مطلب فی أحکام المعذور ، خلاصة الفتاوی : ۱۹۷/۱، الفصل الحادی والعشرون فی صلاة المریض ، البحر الرائق :۲۰۲/۲ ، باب صلاة المریض)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿لا یکلف الله نفسًا إلا وسعها﴾ ۔ (سورة البقرة :۲۸۶)
ما فی ” بدائع الصنائع “ : العاجز عن الفعل لا یکلف به ، وکذا إذا خاف زیادة العلة من ذلک ، لأنه یتضرر به وفیه أیضًا حرج ۔ (۲۸۴/۱ ، فصل فی أرکان الصلاة)
ما فی ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : الحرج مدفوع ۔ (۷۱۱/۲)
ما فی ” قواعد الفقه “ : الأمر إذا ضاق اتسع وإذا اتسع ضاق ۔ (ص/۶۲ ، رقم القاعدة: ۴۸)
ما فی ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : المشقة تجلب التیسیر ۔ (۲۷۶/۱)
(أحسن الفتاوی :۷۵/۲)
