مزار پر چھت ڈال کر نماز پڑھنا از روئے شرع کیسا ہے؟

( فتویٰ نمبر : ۷)

سوال:

۱-ہماری مسجد میں مشرقی جانب صحن میں توسیعی کام چل رہا ہے ، اسی مسجد کے صحن میں شمال کی جانب ایک بہت پرانا مزار ہے، کچھ لوگ اس کی زیارت کے لیے بھی آتے ہیں، اس کی مستقل چہار دیواری بھی ہے، تو کیا یہ درست ہے کہ مزار کے اوپر چھت آجائے؟نیزاس چھت پرنمازپڑھنا درست ہے یا نہیں؟

۲-اسی طرح اس مسجد کے صحن میں دو قبریں اور ہیں، جو اس وقت چھت کے نیچے بیچ میں آرہی ہیں، یہ قبریں انتظامی کمیٹی کے صد ر صاحب کے آبا واجداد میں سے کسی کی ہیں، کمیٹی اور صدر صاحب ان دو قبروں کو ہموار کرکے اوپر فرش کرنا چاہتے ہیں، تاکہ صفیں درست اور صحیح ہو سکیں، اس لیے کہ جمعہ ، عیدین، شبِ برأت وشبِ قدر میں جگہ ناکافی ہوتی ہے، اور ان دو قبروں کی وجہ سے کافی جگہ گھری رہتی ہے، اس خالی جگہ میں بعض لوگ چپل جوتے لا کر رکھتے ہیں، بعض لوگ تھوکتے ہیں اور ہمیشہ یہ جگہ پانی سے کچی اور تَر رہتی ہے، جس کی وجہ سے ان قبروں کی بے حرمتی وبے ادبی ہوتی ہے، کمیٹی چاہتی ہے کہ ان قبروں کی بے حرمتی بھی نہ ہو اور صاحبِ قبر مرحوم کو فائدہ وراحت بھی حاصل ہو، ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سو سال تک ان قبروں کوہموار نہیں کرسکتے،کیا ان کا یہ کہنا درست ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں مزار پر چھت ڈال کر نماز پڑھنے میں کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو، تو چھت ڈال کر اس پر نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی، نیز صفوں کی درستگی اور بے حرمتی سے بچنے کے لیے مذکورہ دونوں قبروں کو ہموار کرکے فرش نماز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، چنانچہ فتاویٰ محمودیہ میں لکھا ہے کہ قبر اتنی پرانی ہو کہ میت اس میں باقی نہ رہے ،بلکہ مٹی بن کر ختم ہوجائے ،تو قبر کا حکم بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے، اور اس جگہ پر حسبِ ضرورت تعمیر وغیرہ کی بھی اجازت ہے۔(فتاویٰ محمودیہ:۵۱۲/۱۴)،نیز جو شخص سو سال تک قبروں کے ہموار کرنے کو درست نہیں سمجھتا ،اس کا خیال غلط ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” تبیین الحقائق “ : ولو بلی المیت وصار ترابًا جاز دفن غیره في قبره وزرعه والبناء علیه ۔(۵۸۹/۱)

(فتاویٰ محمودیه:۵۱۲/۱۴) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: عبد القیوم مالیگانوی۔۱۴۲۸/۱۱/۲۳ھ

الجواب صحیح: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۱/۲۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔