مسافروں کے لیے گاڑی ، ٹکٹ اور قیام کا نظم کرنا

مسئلہ:

آج کل ٹور پر لے جانے کیلئے مختلف تجارتی کمپنیاں قائم ہیں، جو آمد ورفت کے لئے ٹکٹ اور قیام کیلئے سہولتوں کا نظم کرتی ہیں، سفر کرنے والوں کی چوں کہ مختلف قسمیں ہوتی ہیں، اس لئے جو لوگ جائز مقاصد کیلئے سفر کرتے ہیں، تو ان کیلئے ٹکٹ اور قیام کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے ٹراویلس کمپنیوں کو قائم کرنا شرعاً درست ہے، اور ان کی آمدنی بھی جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” کتاب الکسب للإمام محمد بن حسن الشیبانی “ : ثم المکاسیب أربعة: الإجارة، والتجارة، والزراعة، والصناعة، وکل ذلک فی الإباحة سواء عند جمهور الفقهاء۔

(ص/۲۸۱)

ما فی ” حاشیة کتاب الکسب “ : قال السرخسی : المکاسب أربعة: الإجارة والتجارة والزراعة والصناعة، وکل ذلک فی الإباحة سواء ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال النووی: قال النبی ﷺ: ” ما أکل أحد طعاماً قط خیراً من أن یأکل من عمل یده، وإن نبی الله داود علیه السلام کان یأکل من عمل یده “۔ فهذا صریح فی ترجیح الزراعة والصنعة لکونهما من عمل یده۔ (ص/۲۱۸۔۲۸۲)

ما فی ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الأصل فی الأشیاء الإباحة حتی یدل الدلیل علی عدم الإباحة۔ (۲۵۲/۱۔۲۵۳)

ما فی ” هامش الأشباه “ : قوله : (الأصل فی الأشیاء) ذکر العلامة قاسم بن قطلوبغا فی بعض تعالیقه أن المختار أن ا لأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا ۔۔۔۔۔۔ ودلیل هذا القول قوله تعالی: ﴿خلق لکم ما فی الأرض جمیعاً﴾۔(۲۵۲/۱۔۲۵۳)

(تجاویز بیسواں فقهی سمینار اسلامک فقه اکیڈمی انڈیا: ۱۰۲۲ء)

اوپر تک سکرول کریں۔