مسافر شخص کا مقیم امام کی اقتداء میں اتمام

مسئلہ:

اگر مسافر شخص مقیم امام کے ساتھ چار رکعت والی وقتیہ نماز کی تیسری رکعت میں شریک ہوا، تو امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرے گا، بلکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد مزید دو رکعت اورپڑھ کر اتمام کرے گا، کیوں کہ جس طرح مسافر پر اقامت کی نیت سے اتمام لازم ہوتا ہے، اسی طرح مقیم کی وقتیہ نماز میں اقتداء کرنے سے بھی اتمام لازم ہوجاتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” حلبی کبیر“ : اعلم أن صلوٰة المسافر کما تتغیر من الرکعتین إلی الأربع ما دام فی الوقت بنیة الإقامة کذلک تتغیر بالإقتداء بالمقیم إن تم الإقتداء، إذا عرفت هذا فنقول: إذا اقتدی المسافر بالمقیم فی الوقت صح ولزمه الإتمام ۔(ص:۵۴۲، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة المسافر)

ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : ویصح إقتداء المسافر بالمقیم فی الوقت، ویتم لتغیر فرضه بالتبعیة سواء بقی الوقت أو خرج قبل إتمامها۔

(۳۱۴/۱، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة المسافر)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : إن اقتدیٰ مسافر بمقیم أتم أربعاً۔ (۱۴۲/۱، باب صلوٰة المسافر)

ما فی ” البحر الرائق “ : ولو اقتدیٰ المسافر بالمقیم فی الوقت ولو قدر التحریمة علی الأصح صح إقتداء ه ویتم ما شرع فیه أربعاً بالتبعیة۔

(۲۴۲/۲ ، کتاب الصلوٰة، باب صلوٰة المسافر، الدر المختار مع الشامیة: ۶۱۲/۲ ، باب صلوٰة المسافر)

(فتاوی دارالعلوم: ۴۵۵/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔