امام، خلیفہ کو رکعت کی تعداد وغیرہ کی اطلاع کس طرح دے

مسئلہ:

اگر امام کو نماز کی حالت میں حدث لاحق ہوجائے، جس کی بناء پر اسے خلیفہ بنانے کی ضرورت پڑ جائے، اور خلیفہ کو یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں باقی ہیں، تو محدث امام کو چاہیے کہ اگر ایک رکعت باقی تھی تو ایک انگلی سے ، اور اگر دو رکعتیں باقی تھیں تو دو انگلیوں سے اشارہ کرے، اگر رکوع چھوٹا ہواہے تو گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر، سجدہ چھوٹاہوا ہے تو پیشانی پر ہاتھ رکھ کر، اور قرأت چھوٹی ہوئی ہے تو منہ پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کرے، سجدہٴ تلاوت کیلئے پیشانی اور زبان پر ہاتھ رکھ کر، اور سجدہٴ سہو واجب تھا تو سینہ پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کرے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : سبق الإمام حدث استخلف أی جاز له ذلک ولو فی جنازة بإشارة أو جرّ لمحراب ، ولو لمسبوق ویشیر بأصبع لبقاء رکعة ، باصبعین لرکعتین ، ویضع یده علی رکبته لترک رکوع ، وعلی جبهته لسجود ، وعلی فمه لقراء ة ، وعلی جبهته ولسانه لسجود تلاوة ، أو صدره لسهو ۔

(۳۰۳/۲ ، ۳۰۴ ، کتاب الصلاة ، باب الاستخلاف)

ما فی ” نصب الرایة للزیلعي “ :عن أبی هریرة قال : قال رسول الله ﷺ ”إذا صلی أحدکم فقاء أو رعف فی صلاته فلیضع یده علی فمه ولیقدم من لم یسبق بشيء من صلاته“۔

(۶۱/۲ ، البحر الرائق :۶۴۶/۱ ، باب الحدث فی الصلاة ، الفتاوی الهندیة :۹۶/۱ ، النهر الفائق :۲۵۸/۱ ، بدائع الصنائع :۱۰۱/۲ ، الموسوعة الفقهیة : ۲۵۳/۳ ، استخلاف)

اوپر تک سکرول کریں۔