مسجدوں میں نکاح کی مجلس کرنا

مسئلہ:

آج کل الحمد للہ مسجدوں میں نکاح کا رواج عام ہورہا ہے، جو عین تعلیماتِ اسلام کے مطابق ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مسجد ہونے کی وجہ سے لوگ بہت سے منکرات سے بچ جاتے ہیں، لیکن اس صورت میں بعض لوگوں کو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بعضے اوقات باراتیوں میں غیر مسلم شخصیات بھی ہوتی ہیں، اور وہ طہارت کے بغیر مسجد میں آجاتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے، ان کے اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ غیر مسلموں کا مسجد میں داخل ہونا منع نہیں ہے، جائز ہے، کیوں کہ آپ ﷺ کے زمانے میں غیر مسلم مہمانوں کو مسجد ہی میں ٹھہرایا جاتا تھا،(۱) غیر مسلم قیدی مسجد ہی کے ستون سے باندھے جاتے تھے،(۲) لہذا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ ایسے موقع پر اسلام کے طریقہ نکاح کو اچھی طرح واضح کیا جائے، یہ تو دعوتِ اسلام بھی ہے، البتہ مسلمان ہو یا غیر مسلم دونوں کیلئے ضروری ہے کہ ان کے جسم یا کپڑے پر ایسی نجاست نہ لگی ہو، جس سے مسجد کے آلودہ ہونے کا اندیشہ ہو۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن ابن عباس قال: قدم وفد عبد القیس علی رسول الله ﷺ ۔۔۔۔۔ وفی روایة : فقال : إن وفد عبد القیس أتوا رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: ” من الوفد؟ “ ۔ أو: ” من القوم ؟“ ۔ قالوا: ربیعةُ، قال: ” مرحباً بالقوم“ أو: ” بالوفد، غیر خَزَایا ولا النَّدامیٰ “۔

(۳۳،۳۴/۱، کتاب الإیمان ، باب الأمر بالإیمان بالله تعالی ورسوله ﷺ الخ ، مکتبه بلال دیوبند)

ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : وقد روی عن حماد بن سلمة عن حمید عن الحسن عن عثمان بن أبی العاص: إن وفد ثقیف لما قدموا علی رسول الله ﷺ ضرب لهم قبة فی المسجد، فقالوا: یا رسول الله ﷺ قوم أنجاس، فقال رسو ل الله ﷺ: ” إنه لیس علی الأرض من أنجاس الناس شيء، إنما أنجاس الناس علی أنفسهم “۔ وروی یونس عن الزهری عن سعید بن المسیب، أن أبا سفیان کان یدخل مسجد النبی ﷺ وهو کافر۔

قال أبوبکر : فأما وفد ثقیف فإنهم جاءوا بعد فتح مکة إلی النبی ﷺ، والآیة نزلت فی السنة التی حج فیها أبوبکر، وهی سنة تسع، فأنزل لهم النبی ﷺ فی المسجد وأخبر أن کونهم أنجاساً لا یمنع دخولهم المسجد، وفی ذلک دلالة علی أن نجاسة الکفر لا تمنع الکافر من دخول المسجد، وأما أبوسفیان مشرکاً حینئذ۔

(۱۱۵/۳، تحت الآیة: إنما المشرکون نجس)

(۲) ما فی ” السنن للنسائي “ : عن سعید بن أبی سعید أنه سمع أبا هریرة رضی الله تعالی عنه یقول: بعث رسول الله ﷺ خیلا قبل نجد فجاءت رجل من بنی حنیفة یقال له: ثمامة بن أثال سید أهل الیمامة، فربط بساریة من سواری المسجد۔(۸۳/۱، کتاب المساجد، ربط الأسیر بساریة المسجد)

(۳) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (و)کره تحریماً ۔۔۔۔۔ (إدخال نجاسة فیه) ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی: عبارة الأشباه: إدخال نجاسة فیه یخاف منها التلویث، وفی الفتاوی الهندیة: لایدخل المسجد من علی بدنه نجاسة۔ (۳۷۱/۲، کتاب الصلوٰة، فی أحکام المسجد)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ذکر الفقیه فی التنبیه: حرمة المسجد خمسة عشر۔۔۔۔۔۔۔ الرابع عشر أن ینزهه عن النجاسات۔

(۴۲۱/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس فی آداب المسجد، البحر الرائق: ۶۱/۲ ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)

(فتاوی دارالعلوم: ۱۹۱/۱۴، فتاوی محمودیه: ۲۴۲/۱۵)

اوپر تک سکرول کریں۔