مسجدِ محلہ میں جماعت چھوٹ جانے پر دوسری مسجد جانا!

(فتویٰ نمبر: ۲۳)

سوال:

اگر یہ معلوم ہوجائے کہ مسجد محلہ میں جماعت ختم ہوچکی ہے، تو کیا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے دوسری مسجد میں جانا ضروری ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر مسجدِ محلہ میں جماعت ہوچکی ہو، تو دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے جانا واجب ولازم تو نہیں،لیکن مندوب ومستحسن ہے (۱)، اور مندوب کا حکم یہ ہے کہ اس کا کرنا راجح ہے نہ کرنے پر۔ (۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام۔ (درمختار) ۔ وفي الشامیة: قوله : (ولو فاتته ندب طلبها) فلا یجب علیه الطلب في المساجد بلا خلاف بین أصحابنا، بل إن أتی مسجدًا للجماعة آخر فحسن، وإن صلی في مسجد حیه منفردًا فحسن۔

(۲۹۱/۲، کتاب الصلاة، باب الإمامة، البحر الرائق: ۶۰۶/۱، تبیین الحقائق: ۳۴۲/۱، الفتاوی الهندیة: ۸۲/۱،۸۳، فتح القدیر: ۳۵۳/۱)

(۲) ما في ” قواعد الفقه “ : المندوب – عند الفقهاء هو الفعل الذي یکون راجحا علی ترکه في نظر الشارع ویکون ترکه جائزا ۔ (ص/۵۱۰ ، المندوب) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۲/۱۵ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔