مسئلہ:
مسجد میں جو جگہ نماز کیلئے متعین اور وقف ہے، وہاں ناپاکی کی حالت میں جانا جائز نہیں ہے، خواہ وہ جگہ مسقف ہو یا غیر مسقف، وہاں پیر رکھتے وقت مسجد میں داخل ہونے کی دعا ” اللہم افتح لي أبواب رحمتک “ پڑھنی چاہیے،(۱) اور جو جگہ مسجد کے مسقف یا غیر مسقف حصہ سے متصل ہے، اور وہ نماز کیلئے متعین اور وقف نہیں ، وہاں ناپاکی کی حالت میں بھی جانا جائز ہے، کیوں کہ وہ شرعی مسجد نہیں ہے ، گرچہ احاطہ میں داخل ہے،(۲) اور وہاں داخل ہوتے وقت دعا بھی نہ پڑھے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي أسید قال: قال رسول الله ﷺ: ” إذا دخل أحدکم المسجد فلیقل: ” اللهم افتح لي أبواب رحمتک “۔
(۲۴۸/۱، کتاب صلوٰة المسافرین، باب ما یقول إذا دخل المسجد)
(۲) ما فی ” حلبی کبیر “ : وفناء المسجد له حکم المسجد، حتی لو اقتدی بالإمام منه یصح اقتداءه، وینبغی أن یختص بهذا الحکم دون حرمة مرور الجنب ونحوه، وفناءه هو المکان المتصل لیس بینه وبینه طریق۔ (ص:۶۱۴، فصل فی أحکام المسجد)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (کفناء مسجد) هو المکان المتصل به لیس بینه وبینه طریق، فهو کالمتخذ لصلوٰة جنازة أو عید فیما ذکر من جواز الإقتداء وحل دخوله لجنب ونحوه۔(۳۷۲/۲، کتاب الصلوٰة، قبیل مطلب: کلمة لا بأس دلیل علی المستحب وغیره)
(فتاوی محمودیه: ۳۱۹/۲۲ ، مکتبه محمودیه میرٹھ)
