مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان

مسئلہ: 

اگر کسی شخص کی گھڑی ،چشمہ یاکوئی اور شيٴ مسجد سے باہر گم ہوگئی ہو، تومسجد میں اس کا اعلان کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ احترامِ مسجد کے خلاف ہے،آپ ا نے ارشاد فرمایا : جو کسی شخص کو سنے کہ وہ مسجد میں گمشدہ چیز کو تلاش کرتاہے ،توچاہیے کہ کہے ”اللہ تعالیٰ اس کو تجھ پر نہ لوٹائے ،کیوں کہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں(۱) “، البتہ اگر مسجدکے اندرہی گم ہوگئی ہو،تو بلاشوروشغب مسجدکے دروازے پر اعلان کرنا،یا بدون اعلان انفراداً لوگوں سے پوچھنا ، یاملی ہوئی چیزکی اطلاع دیناجائز ہے ،بہتر یہ ہے کہ مسجد کے باہر گمشدہ چیزپہنچانے اورلینے کے لیے کوئی جگہ متعین کرلی جائے ،تاکہ مسجدیں باربارکے اعلان وشورشغب سے محفوظ رہیں ۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” مشکوة المصابیح “ : قوله علیه السلام : ” من سمع رجلا ینشد ضالة في المسجد فلیقل : لا ردّها الله علیک ، فإن المساجد لم تبن لهذا “ ۔ رواه مسلم ۔

(ص/۶۸، باب المساجد ومواضع الصلاة)

(۲) ما في ” معارف السنن “ : قال الشیخ : وأما إنشاد الضالة فله صورتان : إحداهما : وهي أقبح وأشنع بأن یضل شيء خارج المسجد ثم ینشده في المسجد لأجل اجتماع الناس فیه ، والثانیة : أن یضل في المسجد نفسه فینشده فیه ، وهذا یجوز إذا کان من غیر لغط وشغب ۔

(۳۱۳/۳ ، باب ما جاء في کراهیة البیع والشراء وانشاد الضالة والشعر في المسجد)

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی الدر المختار “ : قال العلامة الطحطاوي : قوله : (والمجامع) أي مجامع الناس کالمساجد والأسواق والشوارع إلا أنه ینادي علی أبواب المساجد لا فیها ۔(۵۰۱/۲ ، بحواله احسن الفتاوی : ۷۷۴/۶)

(فتاویٰ مفتی محمود : ۴۵۹/۱، فتاویٰ محمودیه:۲۱۲/۱۵)

ما في ” مجمع الأنهر “ : (وفي المجامع) أي مجامع الناس کأبواب المساجد والأسواق ، فإنه أقرب إلی وصول الخبر اه۔ (۵۲۵/۲، کتاب اللقطة)

 

اوپر تک سکرول کریں۔