مسجد کی بجلی سے موبائل چارجنگ

مسئلہ:

تبلیغی جماعت میں نکلنے والے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ موبائل چارج کرنے کے لیے مسجد کی بجلی استعمال نہ کریں، چارج کی ضرورت ہو تو باہر کسی دکان یا مکان والے کو پیسہ دے کر کرالیا کریں، یا اگر جماعت کا کوئی مقامی ساتھی اپنے گھر سے بلا عوض کراکر لاوے ، تو یہ بھی درست ہے، اور اگر مسجد سے باہر چارج دشوار ہو تو متولی ٴ مسجد سے اجازت لے کر مسجد کی بجلی سے چارج کرلیں، اور بقدر چارج بلکہ کجھ زائد پیسے مسجد کی پیٹی میں ڈال دیں، تو اِس کی گنجایش ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” البحر الرائق “ : وفي الإسعاف : ولیس لمتولي المسجد أن یحمل سراج المسجد إلی بیته۔ (۴۲۰/۵، کتاب الوقف، أحکام المسجد)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو وقف علی دهن السراج للمسجد لا یجوز وضعه جمیع اللیل بل بقدر حاجة المصلین، ویجوز إلی ثلث اللیل أو نصفه إذا احتیج إلیه للصلاة فیه ۔ کذا في السراج الوهاج ۔(۴۵۹/۲، کتاب الوقف، الباب الحادي عشر، مطلب فیما إذا أراد أن یقرأ الکتاب بسراج المسجد)

(فتاویٰ دار العلوم ، رقم الفتوی:۲۹۶۵۲)

اوپر تک سکرول کریں۔