مسئلہ:
کبھی مسجد کے ذمہ داران ، مسجد کی بجلی پڑوس میں کسی رہنے والے کو دیتے ہیں، اور اس سے بجلی بل بھی لیتے ہیں، تو اُن کا یہ عمل اس وقت جائز ہوگا جب کہ حکومت کی طرف سے اس طرح کسی کو لائٹ دینے اور اس پر اجرت لینے کی اجازت ہو، اور یہ اجازت جن شرطوں کے ساتھ مشروع ہے، اس کا پاس ولحاظ بھی رکھا جائے، اگر حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے، یا جن شرطوں کے ساتھ یہ اجازت مشروط ہے، ان کا پاس ولحاظ نہیں کیا جاتا، تو مسجد کی بجلی دوسروں کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا استأجر دارًا وقبضها ثم آجرها فإنه یجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأکثر مما استأجرها فهي جائزة أیضًا إلا أنه إن کانت الأجرة الثانیة من جنس الأجرة الأولی فإن الزیادة لا تطیب له ویتصدق بها۔
وفیه: ومن استأجر شیئًا فإن کان منقولا فإنه لا یجوز له أن یوٴاجره قبل القبض، وإن کان غیر منقول فأراد أن یوٴاجره قبل القبض فعند أبي حنیفة وأبي یوسف رحمهما الله تعالی یجوز، وعند محمد رحمه الله تعالی لا یجوز کما في البیع۔ (۴۲۵/۴، کتاب الإجارة، الباب السابع في إجارة المستأجر)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : یتفق الفقهاء علی أن المستأجر یلزمه أن یتبع في استعمال العین ما أعدت له مع التقید بما شرط في العقد، أو بما هو متعارف، إذا لم یوجد شرط، وله أن یستوفی المنفعة المعقود علیها أو ما دونها من ناحیة استهلاک العین والانتفاع بها، ولیس له أن ینتفع منها بأکثر مما هو متفق علیه ۔۔۔۔ وإن استأجرها الدابة لرکوبه الخاص فلیس له أن یتخذها لغیر ذلک۔ (۲۷۰/۱، إجارة، استعمال العین حسب الشرط أو العرف والمحافظة علیها)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند ، رقم الفتویٰ: ۴۲۸۴۰)
