(فتویٰ نمبر: ۲۳۵)
سوال:
۱-ایک مسجد کی رقم ۱۰/ سال قبل بینک میں رکھی ہوئی تھی، اس کا سود دس ہزار روپے(10,000) ہوا ہے، مسجد والے سودی رقم کسی غریب کو بغیر ثواب کی نیت سے دے کر اُس سے اُس کی اچھی رقم لے رہے ہیں، اور اس رقم سے مسجد کی زمین خریدنا چاہتے ہیں ،توکیا اُن کایہ سب کرنا درست ہے یا نہیں؟ یااس کی اور کوئی شکل ہے جس سے وہ رقم استعمال میں لی جاسکے؟یا بالکل وہ رقم مسجد میں استعمال ہی نہ کریں؟
۲-” اوسہ “شہر میں بلا سودی بینک چلتی ہے،تو اس بینک میں سودکی یہ دس ہزار (10,000) روپے کی رقم جمع کرسکتے ہیں یانہیں؟ اس بینک سے لوگوں کو بلاسودی قرض دیا جاتا ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-جب حفاظت کا کوئی اور طریقہ موجود ہو، تومسجد کی رقم بینک میں جمع کرنا خلافِ احتیاط ہے۔
(الف) لیکن اگر غلطی، غفلت یا مجبوری میں اتفاق سے ایسا ہوگیا،تو پھر اس جمع کردہ رقم پر ملنے والی سودی رقم لے کر بلانیتِ ثواب غربا وفقرا کو صدقہ کردے۔(۱)
(ب)مسجد اللہ کا گھر ہے ، اس میں پاکیزہ اور حلال مال لگانا ضروری ہے، حرام مال سے اللہ کے گھر کوملوث کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے یہ سودی رقم مسجد کے لیے زمین کی خریداری اور اُس کی تعمیر میں نہیں لگائی جاسکتی ہے۔(۲)
البتہ ضرورتِ شدیدہ کی صورت میں حیلہٴ شرعیہ کے بعد یہ رقم مسجد کی زمین کی خریدی اور اس کی تعمیر میں صرف کی جاسکتی ہے ،وہ حیلہ یہ ہے کہ کسی غریب آدمی سے کہا جائے کہ اگر تم مفت میں ثواب لینا چاہتے، تو کسی سے روپے قرض لے کر فلاں نیک کام (مسجد کے لیے زمین کی خریداری وتعمیری کام ) میں چندہ دے دو، ہم تمہارا قرض ادا کردیں گے، جب وہ قرض لے کر روپیہ چند ہ میں دیدے، تو اس کو مسجد کی، بینک میں جمع کردہ رقم پر ملی ہوئی سود ی رقم دے دی جائے،تاکہ اس سے وہ اپنا قرض ادا کردے۔(۳)
۲-سود کی یہ رقم (10,000) بینک میں جمع کرانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ دس ہزار کی رقم سود کی ہے، جس کا فقرا وغربا پر تصدق واجب ہے ،اورتصدق کی لیے تملیک یعنی مالک بنانا ضروری ہے، جب کہ بینک کو دینے سے تملیک نہیں پائی جاتی ،بلکہ بینک خو د اس رقم کا مالک بن کر دوسروں کو قرض دیتا رہے گا۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا الربوا أضعافًا مضاعفةً﴾ ۔ (سورة آل عمران :۱۳۰)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالا مختلطاً مجتمعا من الحرام ، ولا یعلم أربابه ولا شیئًا منه بعینه ، حل له حکمًا ، والأحسن دیانة التنزه عنه ۔
(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالا حرامًا)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” أیها الناس ! إن اللّٰه طیب لا یقبل إلا طیبًا “ ۔ (۲۶/۱ ، رقم : ۱۰۱۵ ، کتاب الزکاة)
ما في ” شرح النووي علی هامش الصحیح لمسلم “ : فیه الحث علی الإنفاق من الحلال ، والنهي عن الإنفاق من غیره ، وفیه أن المشروب والمأکول والملبوس ونحو ذلک ینبغي أن یکون حلالاً خالصًا لا شبهة فیه ۔ (۳۳۸/۴ ، کتاب الزکاة ، باب قبول الصدقة في الکسب الطیب ، ط : إحیاء التراث العربي بیروت)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال تاج الشریعة : أما لو أنفق في ذلک مالا خبیثًا أو مالا مخلوطًا من الخبیث والطیب فیکره ؛ لأن اللّٰه تعالی لا یقبل إلا الطیب ، فیکره تلویث بیته بما لا یقبله ۔(۳۷۳/۲ ، کتاب الصلاة ، مطلب ” کلمة لا بأس “ دلیل علی المستحب غیره ؛ لأن البأس الشدة)
(۳) (فتاویٰ رحیمیه: ۱۴۵/۹، ۱۴۶، احکام المساجد والمدارس ،ط: دارالاشاعت کراچی)
( ملفوظاتِ حکیم الامت: ۱۶۲/۲۳، ۱۶۳، ط: ادارهٴ تالیفاتِ اشرفیه پاکستان)
(۴) حواله نمبر ایک کے تحت عبارت گزر چکی هے ، فلیراجع ۔ فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۶/۱۲ھ
