مسجد کے قریب استنجاء خانہ وبیت الخلاء

مسئلہ:

مسجد کے قریب طہارت خانے اور بیت الخلاء نمازیوں کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں، اس واسطے نمازیوں کو چاہیے کہ اُن کا استعمال صحیح طور سے کریں، استعمال کے بعد پانی اچھی طرح بہاویں ؛ کہ اُن کی بدبو مسجد اور اُس کے آس پاس کے ماحول کو بدبودار نہ کردے، اگر ایسا نہیں کیا جاتا اور طہارت خانہ وبیت الخلاء کی وجہ سے مسجد میں بدبو آتی ہو، تو اُن کوختم کرکے مسجد سے دور کردینا چاہیے، کیوں کہ حدیث شریف میں بدبودار چیز کھاکر مسجد میں آنے کی ممانعت آئی ہے، اور اُس سے نمازیوں اور ملائکہ دونوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عمر أن النبي ﷺ قال في غزوة خیبر: ”من أکل من هذه الشجرة یعني الثوم فلا یقربنّ مسجدنا “۔

(۱۱۸/۱، کتاب الأذان، باب ما جاء في الثوم النيّ والبصل الخ)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبی “ : ومما تصان عنه المساجد وتنزه عنه الروائح الکریهة والأقوال السیئة وغیر ذلک۔ (۲۶۷/۱۲، سورة النور:۳۶)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویحرم فیه السوٴال ۔۔۔۔۔ وأکل نحو ثوم ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (وأکل نحو ثوم) أي کبصل ونحوه مما له رائحة کریهة للحدیث الصحیح ۔۔۔۔۔۔ ولا یختص بمسجده علیه الصلاة والسلام بل الکل سواء لروایة ” مساجدنا “ بالجمع، خلافًا لمن شذّ، ویلحق بما نص علیه في الحدیث کل ما له رائحة کریهة ماکولا أو غیره۔(۳۷۵/۲-۳۷۸، کتاب الصلاة، مطلب في الغرس في المسجد)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۷۰۵۴)

اوپر تک سکرول کریں۔