(فتویٰ نمبر: ۱۹۳)
سوال:
اگر کسی شخص نے ایسی جگہ پر پختہ مکان بنایا ہو، جس میں مسجد کی جگہ ایک فِٹ نکلتی ہواور اس جانب وضو خانہ ہو، اور یہ ایک فٹ جگہ جو مسجد کی ہے قوس ہونے کی وجہ سے چھوڑی گئی ہے، اس جگہ پر مسجد کے بارش کے پانی کاپائپ (Pipe)ہو، اور اس شخص نے بارش کے پانی کے پائپ (Pipe) کو اپنی چھت پر لے لیا ہو، تو اس وقت اس شخص کو کیا کرنا چاہیے؟ جب کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ مسجد کی جگہ اس کی طرف ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
مسجد کی زمین موقوفہ ہوتی ہے، اس کے کسی بھی حصے کو اپنے مکان میں داخل کرلینا، خواہ وہ غلطی ہی سے ہو، شرعاً جائز نہیں ہے؛ اس لیے آپ پر لازم ہے کہ اس حصہٴ زمین کو جو مسجد کی زمین پر تعمیر ہوچکا ہے منہدم کردیں اور مسجد کی زمین کو خالی کردیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : قال صاحب التنویر: فإذا تم ولزم ، لا یملک ولا یملّک ، ولا یعار ولا یرهن ۔ (التنویر) ۔ وفي الشامیة : قوله : (ولا یملک) أي لا یقبل التملیک لغیره بالبیع ونحوه لاستحالة تملیک الخارج عن ملکه ۔ (۴۲۱/۶ ، کتاب الوقف ، ط : دار الکتاب دیوبند)
ما في ” البحر الرائق “ : فمن بنی بیتًا علی جدار المسجد وجب هدمه ، ولا یجوز أخذ الأجرة ، وفي البزازیة : ولا یجوز للقیم أن یجعل شیئًا من المسجد مستغلا ولا مسکنًا ۔
(۴۲۱/۵ ، کتاب الوقف ، فصل في أحکام المسجد)
ما في ” فتح القدیر “ : وإذا صح الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه ۔ (هدایه) ۔ وفي فتح القدیر : قوله : (لم یجز بیعه ولا تملیکه) هو بإجماع الفقهاء ، أما امتناع التملیک فلما بینا من قوله علیه السلام لعمر رضي اللّٰه عنه : ” تصدق بأصلها لا یباع ولا یورث ولا یوهب “ ۔ (۲۰۴/۶ ، کتاب الوقف)
(البحر الرائق : ۳۴۲/۵ ، کتاب الوقف) (فتاویٰ محمودیه: ۳۲۸/۱۴) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۲۹ھ
