مسلمانوں کا ہندؤوں کے ساتھ ’’پولے‘‘ کے تہوار میں شرکت!

(فتویٰ نمبر: ۴۷)

سوال:

ہمارے گاوٴں میں اکثریت ہندو بھائیوں کی ہے، جب ان کا پولوں کا تہوار آتا ہے تو مسلمان بھی ان کے ساتھ شریک ہوکر بیلوں کو رنگتے ہیں، سجاتے ہیں اور بیلوں کو پورے گاوٴں میں گھماتے ہیں، اُن کو مخصوص قسم کا کھانا کھلاتے ہیں، اُن بیلوں کے سامنے ناچتے ہیں، تومسلمانوں کا ان کے ساتھ مل کر یہ عمل کرنا شرعاً کیسا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

مسلمانوں کا ہندوٴوں کے ساتھ پولے کے تہوار میں شرکت کرنا، اور ان کی رسم ورواج کے مطابق بیلوں کو رنگنا ، سجانا اور پورے گاوٴں میں گھمانا، مخصوص قسم کا کھانا کھلانااور ان کے سامنے ناچنا یہ سب اُمور شرعاً درست نہیں ہیں، کیوں کہ ”پولا “یہ ہندوٴوں کی مذہبی رسم ہے، اس میں کسی بھی طرح کی شرکت کرنا گویا کہ ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرنا اور اُن کے اِن غیر اسلامی اعمال سے راضی ہونا ہے، اور ان دونوں چیزوں سے اسلام نے ہمیں منع کیا ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَلا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰه مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُوْنَ﴾ ۔ ”مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں ، پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مدد گار ، پھر کہیں مدد نہ پاوٴں گے۔“ (سورة ہود : ۱۱۳)

اس آیت میں ظالموں سے اہلِ شرک، فاسق وفاجر اور خدا کے نافرمان بندے مراد ہیں، اور میلان وجھکاوٴ کا مطلب اُن سے محبت ،اُن کی اطاعت اور اُن کے اعمال سے راضی ہونا ہے۔(قرطبی: ۱۰۸/۵)

حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 ” مَنْ تَشَبَّه بِقَوْمٍ فَهوَ مِنْهمْ “۔ ”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔“(سنن أبی داود:ص /۵۵۹، مجمع الزوائد: بحواله المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۶۹/۵)

نیز دوسری جگہ ارشاد ہے:

” مَنْ کَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهوَ مِنْهمْ ، وَمَنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ کَانَ شَرِیْکًا فِيْ عَمَلِه “۔

”جو شخص کسی قوم کے اجتماع کو اپنی شرکت کے ذریعے بڑھائے وہ اُنہی میں سے ہے، اور جو کسی قوم کے عمل سے خوش ہو وہ اس عمل میں ان کا برابر کا شریک ہے۔“(کنز العمال : ۱۱/۹ ، رقم : ۲۴۷۳۰) فقط

 واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۱۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔