مسئلہ:
مصائبِ عامہ شدیدہ کے وقت فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد امام کا قنوتِ نازلہ پڑھنا مشروع ہے، آج پورے عالم میں ، بالخصوص مصر، شام، فلسطین وغیرہ کے مسلمان جن سخت پریشانیوں اور مصائب سے دوچار ہیں، اور خود ہمارے ملک کے حالات جس تیزی سے بدلتے جارہے ہیں، اُن کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مسلمان اپنے رب سے اپنے رشتہ وتعلق کو مضبوط بنائیں، گناہوں سے توبہ کرلیں، احکام شریعت کو لازم پکڑیں، اور ہمارے ائمہٴ مساجد نمازِ فجر میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام بھی کریں، اس لیے کہ ایسے حالات میں مصائب وبَلِیَّات اور سختیاں دور کروانے کے لیے، مسلمانوں کی فتح اور مخالفین کی شکست کے لیے بالاتفاق نمازِ فجر کی جماعت میں قنوتِ نازلہ پڑھنا مسنون ومستحب ہے۔(۱)
قنوتِ نازلہ کتنے دنوں تک جاری رکھی جائے، اس سلسلے میں تین قسم کی روایتیں ملتی ہیں: (۱) ۲۰/ دن(۲)، (۲) ایک ماہ (۳)، (۳) ۴۰/ دن۔(۴)
حضورﷺ کا ایک ماہ تک قنوتِ نازلہ پڑھنا پھر اس کے بعد اس کو موقوف کردینا، اس کی تحدید وتعیین کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کی وجہ اس فتنہ اور بلیّہ کا ختم ہوجانا تھا، جس کے سبب آپ ﷺ قنوتِ نازلہ پڑھ رہے تھے(۵)، لہٰذا ضرورت کے موافق اس دعا کو جاری رکھا جاسکتا ہے، تاہم اتباعِ سنت کی غرض سے ایک ماہ تک اس کو جاری رکھنا چاہیے، اور اس سے زائد مدت تک پڑھنے کی ضرورت محسوس ہو تو یہ بھی مشروع ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” شرح معاني الآثار للطحاوي “ : عن أنس رضي الله تعالی عنه قال: ”قنت رسول الله ﷺ عشرین یومًا “۔
(ص:۱۶۸، کتاب الصلاة، باب القنوت في الفجر وغیره، ط: سعید)
(۲-۳) ما في ” تبیین الحقائق “ : وروي في الخبر أنه علیه الصلاة والسلام قنت شهرًا أو أربعین یومًا “ ۔ اه ۔ (۴۲۶/۱، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ط: بیروت)
(۴) ما في ” شرح معاني الآثار “ : ” قنت رسول الله ﷺ شهرًا یدعو علی عُصیّة وذکوان، فلما ظهر علیهم ترک القنوت “۔ اه ۔ (ص/۱۶۸، باب القنوت الخ)
(فتاویٰ دار العلوم زکریا:۳۷۳/۲)
(۵) ما في ” اعلاء السنن “ : والقنوت في الفجر لا یشرع لمطلق الحرب عندنا، وإنما یشرع لبلیّة شدیدة تبلغ بها القلوب الحناجر ولو لا ذلک یلزم الصحابة القائلین بالقنوت للنازلة أن یقنتوا أبدًا ولا یترکوه یومًا لعدم خلوّ المسلمین عن نازلة مّا غالبا، لا سیّما في زمن الخلفاء الأربعة۔ قلت: وهذا هو الذي یحصل به الجمع بین الأحادیث المختلفة في الباب ۔ اه ۔ (۹۶/۶، کتاب الصلاة، أبواب الوتر ، تتمة في بقیة أحکام قنوت النازلة، ط: إدارة القرآن کرچی)
ما في ” أوجز المسالک “ : عن سعید بن جبیر قال: ” أشهد أني سمعت ابن عباس رضي الله عنهما یقول: ” إن القنوت في صلاة الفجر بدعة إلا إذا نزل بالمسلمین نازلة “۔
(۳۱۵/۳)
ما في ” نصب الرایة “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ ” لا یقنت في صلاة الصبح إلا أن یدعو القوم أو علی قوم “۔ (۱۳۰/۲)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وقال الحنفیة والحنابلة: ”لا قنوت في صلاة الفجر إلا في النوازل“۔ (۳۲۲/۲۷)
ما في ” مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي “ : وقال الإمام أبو جعفر الطحاوي رحمه الله تعالی: إنما لا یقنت عندنا في صلاة الفجر من غیر بلیّة فإن وقعت فتنة أو بلیّة فلا بأس به فعله رسول الله ﷺ أي بعد الرکوع۔(ص:۳۷۷، تبیین الحقائق:۴۲۶/۱، البحر الرائق:۷۸/۲، منحة الخالق علی البحر الرائق:۷۸/۲، الهدایة:۱۲۵/۱)
(فتاویٰ محمودیہ: ۱۷۱/۷۔۱۷۲)
