مصافحہ کے بعد سینہ پر ہاتھ پھیرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

بعض لوگ سلام ومصافحہ کے بعد اپنے ہاتھوں کو اپنے سینہ پر پھیرتے ہیں، جبکہ مصافحہ کے بعد سینہ پر ہاتھ پھیرنا نہ کسی حدیث میں مذکور ہے، اور نہ ہی فقہائے کرام نے کتبِ فقہ میں اس کا تذکرہ کیا ہے، یہ محض ایک رواج ہے، اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” صحیح البخاری “ : عن عائشة رضی الله عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: ” من أحدث فی أمرنا هذا ما لیس فیه فهو رد “۔ (۳۷۱/۱ ،کتاب الصلح)

ما فی ” الشامیة “ : البدعة ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول الله ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دیناً قویماً وصراطاً مستقیماً۔

(۲۵۶/۲، مطلب البدعة خمسة أقسام)

ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عباس قال : قال رسول الله ﷺ: ” أبغض الناس إلی الله ثلاثة : ملحد فی الحرم، ومبتغ فی الإسلام سنة الجاهلیة، ومطلب دم امرئٍ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “۔(ص:۲۷، باب الاعتصام بالکتاب والسنة)

 

اوپر تک سکرول کریں۔