مصیبت آنے پر کالا بکرا یا مرغا ذبح کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی مصیبت پیش آئے، یا طبیعت خراب ہو، تو کالا بکرا یا کالا مرغا ذبح کرکے صدقہ کردینے سے مصیبت ٹل جاتی ہے، اور بیمار صحت یاب ہوجاتا ہے، ان کی یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ صدقہ سے بلائیں دور ہوتی ہیں، مگر اس کے لیے کالے بکرے، یاکالے مرغے کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ ہر وہ چیز جو رضائے الٰہی کے لیے اس کی راہ میں دی جائے وہ صدقہ کہلاتی ہے، لہٰذا صدقہ کے لیے کسی جنس اور رنگ ونسل کی قید لگانا شرعاً غلط ہے، جو لوگ اس طرح کی قید لگاتے ہیں وہ اکثر بد دین ہوتے ہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” السنن للترمذي “ : عن أنس بن مالک قال: قال رسول الله ﷺ: ” إن الصدقة لتطفئ غضب الرب، وتدفع میته السوء“۔

(۱۴۴/۱، کتاب الزکاة،باب ما جاء في فضل الصدقة)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : أي لتمنع من إنزال المکروه والبلاء في الحال، وتدفع سوء الخاتمة في المآل۔ (۳۵۲/۴، کتاب الزکاة، باب فضل الصدقة، الفصل الثاني)

ما في ” مشکاة المصابیح “ : عن علي قال: قال رسول الله ﷺ: ” بادروا بالصدقة، فإن البلاء لا یتخطاها “۔ (ص:۱۶۷، کتاب الزکاة، قبیل باب فضل الصدقة)

ما في ” کنز العمال “ : ” الصدقة تمنع سبعین نوعاً من أنواع البلاء، أهونها الجذام والبرص“۔ (۱۴۸/۶، رقم الحدیث: ۱۵۹۷۸)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (الصدقة) هي ما یخرجه الإنسان من ماله، علی وجه القربة واجباً کان أو تطوعاً۔ (۳۳۸/۴ ، باب فضل الصدقة)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ: ۱۲۲۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔