مسئلہ:
میاں بیوی نے حج کیلئے فارم بھر دیا، دونوں کے نام نکل آئے، لیکن حج کی ادائیگی کیلئے روانہ ہو نے سے کچھ دن پہلے شو ہر کا انتقال ہو گیا ،تواب یہ عورت اپنے کسی اور محرم کے ساتھ حج کیلئے نہیں جا سکتی ہے، کیو ں کہ وہ عدت میں ہے اور زمانۂ عدت میں عورت کے لیے سفرِ حج کر نا بھی جائز نہیں ہے ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {لا تخرجوهن من بیوتهن} ۔ (سورة الطلاق :۱)
ما في ’’ أحکام القرآن للجصاص‘‘: قال الإمام الجصاص : فیه نهي للزوج عن إخراجها ونهي لها عن الخروج ۔ (۶۰۷/۳، مکتبة شیخ الهند دیوبند)
ما في ’’ السنن لأبي داود‘‘: ’’ أمکثي في بیتک حتی یبلغ الکتاب أجله‘‘۔(۳۱۴/۱، کتاب الطلاق)
ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: ومن شرائط الحج عدم قیام العدة في حق المرأة عدة، وفاة کانت أو عدة طلاق، والطلاق بائن أو رجعي فلا تخرج المرأة إلی الحج في عدة طلاق أو موت ۔ (۲۱۹/۱)
ما في ’’البحر الرائق‘‘: والثانیة یعني شرائط وجوب أداء خمسة علی الأصح؛ صحة البدن وزوال مانع الحسیة عن الذهاب إلی الحج وأمن الطریق وعدم قیام العدة في حق المرأة۔
(۵۳۹/۲ ، بدائع الصنائع :۳۰۱/۲ ،کتاب المناسک، الدر المختار مع الشامیة :۴۱۲/۳)
