مسئلہ:
اگر کوئی شخص کسی دوسرے محلہ میں نماز تراویح پڑھارہا ہو، اور وہ اپنے محلہ کی مسجد میں اعتکاف کرنا چاہتا ہو، تو وہ تراویح پڑھانے کیلئے جاسکتا ہے، بشرطیکہ اعتکاف میں بیٹھے تو یوں نیت کرلے کہ میں اللہ تعالی کیلئے آخری عشرہ کے اعتکاف کی نذر مانتا ہوں، البتہ تراویح میں قرآن سنانے کیلئے جایا کروں گا، پھر تراویح کے وقت کے بالکل قریب جایا کرے، اور فارغ ہوتے ہی اعتکاف والی مسجد میں آجایا کرے، راستہ میں آتے جاتے وقت کسی جگہ کھڑے نہ ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : ولا یخرج لأکله وشربه ولا لعیادة المریض ولا لصلاة الجنازة۔۔۔۔۔۔ وفی الحجة : ولو شرط وقت النذر والالتزام أن یخرج إلی عیادة المریض وصلاة الجنازة وحضور مجلس العلم یجوز له ذلک ۔
(۱۳۴/۲، باب الاعتکاف ، الفتاوی الهندیة :۲۱۲/۱، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، وأما مفسداته، حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح :ص۷۰۲، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، الدر المنتقی شرح ملتقی الأبحر:۳۷۹/۱، باب الاعتکاف)
(خیر الفتاوی :۱۴۰/۴)
