مغرب کی دورکعتیں چھوٹ جائیں

مسئلہ:

اگر کوئی شخص مغرب کی نمازمیں اپنے امام کو تیسری رکعت کے رکوع میں پالے ،تو اسے یہ تیسری رکعت مل گئی ،اب وہ بقیہ نماز اس طرح اداکرے، کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکر ثنا ء ،تعوّذ ،تسمیہ ،فاتحہ، او رکوئی سورت پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے قعدہ کرے، اور اس میں تشہد پڑھے ، پھر دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہو کر ،فاتحہ وسورت پڑھ کر رکوع اور سجدہ کرکے التحیات ، درود شریف اور دعاء ماثورہ پڑھ کر سلام پھیردے، اگر شخصِ مذکور نے دوسری رکعت،یعنی امام کی فراغت کے بعد پہلی رکعت پر قعدہ نہیں کیا، تب بھی استحساناً اس کی نماز صحیح ہوگی ،اوراس پر سجدہٴ سہو بھی لازم نہ ہوگا ۔

 الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتی یثني ویتعوذ ویقرأ ۔۔۔۔۔ (فیمایقضیه) أي بعد متابعته لإمامه ۔۔۔۔۔ ویقضي أول صلاته في حق قراء ة ، واٰخرها في حق تشهد ؛ فمدرک رکعة من غیر فجر یأتي برکعتین بفاتحة وسورة وتشهد بینهما ۔ التنویر وشرحه ۔ وفي الشامیة : قوله : (وتشهد بینهما) قال في شرح المنیة : ولو لم یقعد جاز استحساناً لا قیاساً ، ولم یلزمه سجود السهو لکون الرکعة أولی من وجه ۔ اه ۔ 

(۳۴۶/۲، ۳۴۷ ، کتاب الصلاة ، باب الإمامة ، مطللب : فیما لو أتی بالرکوع والسجود أو بهما مع الإمام أو قبله أو بعده ، الفتاویٰ الهندیة :۹۱/۱ ، کتاب الصلاة ، الفصل السابع فی المسبوق واللاحق)

ما في ” حلبي کبیر “ : لو أدرک مع الإمام رکعة من المغرب فإنه یقرأ فی الرکعتین الفاتحة والسورة ویقعد في أولهما ، لأنها ثنائیة ، ولو لم یقعد جاز استحسانا لا قیاسا ولم یلزمه سجود السهو ۔(ص/۴۶۸ ، کتاب الصلاة ، فصل في سجود السهو)

 

اوپر تک سکرول کریں۔