مقامِ مزدلفہ میں ملا ہوا موبائل ہندوستان ساتھ لے کر آگیا،اب کیا کرے؟

(فتویٰ نمبر: ۲۳۱)

سوال:

ماشاء اللہ! اللہ کے فضل وکرم سے ہمیں گزشتہ سال حج کرنے کی توفیق ہوئی،در اصل ہوایوں کہ مقامِ مزدلفہ میں ہمیں ایک موبائل ملا جس کو ہم نے لے لیا، اس کے بعد ہم گھر آگئے، تب ہمیں احساس ہوا کہ ہم سے بہت بڑا گناہ ہوگیا ہے، اس وقت سے ہمیں بہت افسوس ہورہا ہے، دل ہر وقت بے چین رہتا ہے ،براہِ کرم ہمیں اس مصیبت سے نجات ملے ایسی کوئی راہ دکھلائیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی !

الجواب وباللہ التوفیق:

آپ کے لیے مناسب تو یہی تھا کہ آپ مقامِ مزدلفہ میں ہی اس کا اعلان کرتے، تاکہ اصل مالک تک رسائی ممکن ہوتی اور موبائل اس کے اصل مالک تک پہنچ جاتا(۱)، مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اور اپنے وطن واپس آگئے،تو اب موبائل کو فروخت کرکے اس کی قیمت غربا وفقرا پر صدقہ کردیں(۲)، تا کہ اس کا وبال سر پر نہ رہے اور دل کو بھی چین وسکون اور اطمینان حاصل ہوجائے، اور کثرت سے استغفار کرتے رہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الهدایة شرح بدایة المبتدي “ : وینبغي أن یعرفها في الموضع الذي أصابها ، وفي الجامع : فإن ذلک أقرب إلی الوصول إلی صاحبها ۔

(۴۶۹/۲ ، کتاب اللقطة ، ط : دار أرقم بیروت ، الاختیار لتعلیل المختار : ۴۱/۳)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فینتفع الرافع بها لو فقیرًا ، وإلا تصدق بها علی فقیر ولو علی أصله وفرعه وعرسه ۔ (در مختار) ۔ (۳۳۷/۶ ، ۳۳۸ ، کتاب اللقطة)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : (فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها إن شاء) قال : (فإن جاء صاحبها وإلا تصدق بها إن شاء) إیصالاً للحق إلی مستحقه بقدر الإمکان ؛ لأن الواجب إیصاله إلی مالکه صورة ومعنی ، فإذا تعذرت الصورة یوصله إلیه معنی وهو الثواب ۔ (۴۰/۳ ، کتاب اللقطة)

(فتاویٰ محمودیه :۱۶۶/۱۴) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۲۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔