مسئلہ:
بعض امام رکوع سے قومہ میں منتقل ہوجانے یعنی رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تکبیرِ انتقال یعنی’’ سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے ہیں، اس صورت میں جن لوگوں نے امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اسکی اقتدا کی ان کو وہ رکعت نہیں ملی، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ امام کے سلام پھیر نے کے بعد اس چھوٹی ہوئی رکعت کوپڑھ لیں۔
نوٹ:ائمہ حضرات تکبیراتِ انتقال کا پورا پورا خیال رکھیں کہ جہاں انتقال کا آغازہو وہیں سے تکبیرِ انتقال بھی شروع کریں اور جہاں انتقال ختم ہو وہیں تکبیرِ انتقال بھی ختم کریں ۔
خصو صاًرکو ع میں کیو نکہ اگر امام رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تکبیر کہے گا تو جس مقتدی نے اس کو نہیں دیکھا وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ امام رکوع ہی میں ہے اور مجھے رکعت مل چکی ہے، جبکہ یہ خلافِ واقعہ ہے اورچھوٹی ہوئی رکعت کے نہ پڑھنے سے نماز صحیح نہیں ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: ومن أدرک إمامه راکعاً فکبر ووقف حتی رفع الإمام رأسه من الرکوع لم یدرک الرکعة حیث لم یدرکه في جزء من الرکوع قبل رفع رأسه منه ۔(ص:۴۵۵، الھدایة:۱۳۳/۱، باب إدراک الفریضة، البحرالرائق:۱۳۵/۲، باب إداراک الفریضة، الفتاوی الهندیة:۱۲۰/۱، الباب العاشر)
ما في ’’الفتاوی الهندیة‘‘: کل ذکر یوتی به في حال الانتقال لا یوتی به في غیر محل کالتکبیرالذي یوتی به عند الانحطاط من القیام إلی الرکوع أو من الرکوع إلی القیام، الواجب أن یراعی کل شيء في محله ۔(۵۷/۱ ، الفصل الثالث)
