مسئلہ:
اگر کو ئی شخص مقروض ہو اور قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ نہ کر رہاہو تو اس کے لیے حج کرنا صحیح ہے ،لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے قرض ادا کرے پھر حج ادا کرے، کیونکہ قرض حقوق العباد میں سے ہے جس کی بڑی اہمیت ہے، انتظام ہو تے ہوئے قرض ادا نہ کر نا سنگین گنا ہ ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {ولله علی الناس حج البیت من استطاع إلیه سبیلا}۔(سورة آل عمران: ۹۷)
ما في’’الجامع لأحکام القرآن للقرطبي‘‘:وإذا وجدت الاستطاعة وتوجه فرض الحج معرض مانع کالغریم یمنعه عن الخروج حتی یؤدي الدین ولا خلاف في ذلک۔(۱۴۹/۴)
ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: ویکره الخروج إلی الغزو و الحج لمن علیه الدین وإن لم یکن عنده مال ما لم یقض دینه إلا بإذن الغرماء ۔ (۲۲۱/۱،کتاب المناسک، الفصل الأول)
ما في ’’البحر الرائق‘‘: ویکره الخروج للغزو أو الحج لمدیون وإن لم یکن له مال یقضي به إلا أن یأذن الغریم ۔ (۵۴۰/۲، دار الکتاب دیوبند)
(فتاوی محمودیه:۳۹۱/۱۰)
