موبائل کمپنی کا زائد ٹاک ٹائم دینا

مسئلہ:

آج کل موبائل کمپنیوں کی طرف سے بہت سے آفر آرہے ہیں، مثلاً 120/ روپئے میں 1200/ روپئے کا ٹاک ٹائم ملے گا، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں 120/ روپئے کے عوض 1200/ روپئے موصول ہوتے ہیں، اس لیے شرعاً یہ سود ہے، جبکہ یہ خیال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ یہاں 120/ میں 1200/ روپئے کے عوض آنے والے وقت کی بقدر گفتگو کا حق دیا جارہا ہے، یعنی حقِ گفتگو کو فروخت کیا جارہا ہے، 120/ روپیے کو 1200/ روپئے کے عوض فروخت نہیں کیا جارہا ہے کہ سود پیدا ہو، 120/ روپئے اور حق گفتگو دو الگ الگ چیزیں ہیں، اس لیے ان کے درمیان کمی بیشی اور ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار دونوں جائز ہیں ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” البحر الرائق “ : الربا هو فضل مال بلا عوض فی معاوضة مال بمال، أی فضل أحد المتجانسین علی الآخر بالمعیار الشرعی أی الکیل والوزن۔

(۲۰۷/۶، باب الربا، تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة : ۳۰۱/۷۔۳۰۳، باب الربا)

ما فی ” فتح القدیر “ : ویجوز للمشتری أن یزید للبائع فی الثمن ویجوز للبائع أن یزید للمشتری فی المبیع ویجوز أن یحط من الثمن۔ (۴۸۰/۶، باب المرابحة والتولیة)

ما فی ” الهدایة “ : وإذا عدم الوصفان الجنسی والمعنی المضموم إلیه حل التفاضل والنسأ لعدم العلة المحرّمة والأصل فیه الإباحة۔

(۷۹/۳، باب الربا، الفتاوی الهندیة:۱۱۷/۳، الفصل السادس)

ما فی ” قواعد الفقه “ : الأصل فی الأشیاء الإباحة ۔ (ص:۵۹، رقم القاعدة :۳۵)

اوپر تک سکرول کریں۔