موقوفہ پانی میں اسراف

مسئلہ:

موقوفہ پانی میں اسراف یعنی زائد ضرورت استعمال حرام ہے، اور اگر مملوکہ ومباح پانی ہے، تو اس میں اسراف مکروہِ تحریمی ہے، مدرسہ اور مسجد میں موجود حوض ونل کا پانی موقوفہ ہے، لہذا اعضاء مغسولہ میں مسنون تکرار پر اضافہ، یا وضو واستنجا کے بعد نل وغیرہ کو یوں ہی کھلا چھوڑ دینا ، یا اسے ٹھیک سے بند نہ کرنا کہ پانی ضائع ہوتارہے، شرعاً ممنوع وناجائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : ویکره الإسراف فیه تحریماً لو بماء النهر أو المملوک له، أما الموقوف علی من یتطهر به ومنه ماء المدارس فحرام۔

(ص:۸۰، فصل فی المکروهات)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : والکراهة فیما إذا کان الماء مملوکاً أو مباحاً، أما الماء الموقوف علی من یتطهر به ومنه ماء المدارس، فإن الزیادة فیه علی الثلاث حرام عند الجمیع لکونها غیر ماذون بها، لأنه إنما یوقف ویساق لمن یتوضأ الوضوء الشرعی، ولم یقصد اباحتها لغیر ذلک۔ (۱۷۹/۴، بدائع الصنائع: ۱۱۳/۱)

(بیسواں فقهی سیمنار اسلامک فقه اکیڈمی انڈیا: ۲۰۱۱ء)

اوپر تک سکرول کریں۔