مسئلہ :
آج کل بہت سے لوگ اپنے مکانوں ،دوکانوں اور گاڑیوں کے اندر یاباہر بدنظری یا حسد سے بچنے کے لئے تعویذات لٹکاتے ہیں ،ان کی دوقسمیں ہیں : قسم اول جائز ،قسم دوم ناجائز۔
قسم اول :(۱)تعویذ کلام الٰہی ،اسماء الٰہی اورصفات الٰہی سے ہو ۔
(۲)عربی زبان میں ہو، اور ایسے کلمات سے ہوں جن کے معانی معلوم ومعروف ہوں۔
(۳)اعتقاد یہ ہو کہ تعویذات خودموٴثر نہیں ، موٴثر حقیقی اللہ کی ذات ہے ، اگر وہ چاہے تو اسے اثر انداز بنا سکتا ہے۔
قسم ثانی: جن تعویذات میں جن وغیرہ کی پناہ طلب کی گئی ہو، یا ایسے کلمات لکھے گئے ہوں کہ ان کے معانی معلوم ومعہودنہ ہوں، یا ان میں کلمات شرکیہ ہوں ،ایسی تعویذات شرعاً ناجائز ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : وعن عوف بن مالک الأشجعی قال : کنا نرقی في الجاهلیة ، فقلنا : یا رسول الله ! کیف تری في ذلک ؟ فقال : ” اعرضوا علي رقاکم ، لا بأس بالرقی ما لم یکن فیه شرک “ ۔ رواه مسلم ۔ قال الشیخ الملا علي القاري رحمه الله تعالی : ” ان الرقی یکره منها ما کان بغیر اللسان العربي ، وبغیر أسماء الله تعالی ، وصفاته ، وکلامه في کتبه المنزّلة ، وإن اعتقد أن الرقیة نافعة لا محالة فیتکل علیها وإیاها “ ۔ (۳۵۸/۸ ، ۳۵۹ ، کتاب الطب والرقی)
ما في ” فتح الباري “:وقدأجمع العلماء علی جواز الرقیة عند اجتماع ثلاثة شروط:أن یکون بکلام الله تعالی،أو بأسمائه،وصفاته ، وباللسان العربي ، أو بما یعرف معناه من غیره،وأن یعتقد أن الرقیة لا توٴثر بذاتها بل بذات الله تعالی۔(۲۴۰/۱۰ ، کتاب الطب ، باب الرقی بالقرآن والمعوذات)
ما في ” رد المحتار “ : وإنما تکره المعوذة إذا کانت بغیر لسان العرب ، ولا یدري ما هو ، ولعله یدخله سحر أو کفر أو غیر ذلک ، وأما ما کان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به ۔(۵۲۳/۹ ، کتاب الحظروالإباحة)
