مکہ مکرمہ ومدینہ طیبہ میں ” اُلبیک ریسٹورنٹ “ کا چکن

مسئلہ:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مکہ مدینہ میں چکن کا سالن، اور ”اُلبیک ریسٹورنٹ“ کا چکن کھانا، جائز نہیں ہے، اُن کی یہ بات علی الاطلاق (بلا قید) درست نہیں ہے، بلکہ اس میں قدرے تفصیل ہے، اور وہ یہ کہ – اگر یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ مرغ کو شرعی طریقہ پر ذبح کیا گیا ہے، نیز ذبح کے بعد اس کو گرم پانی میں اتنی دیر نہ رکھا گیا ہو کہ نجاست کے اثرات گوشت میں جذب ہوجائیں، تو اس کا کھانا شرعاً حلال وجائز ہے، اور اگر یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ مرغ کو شرعی طریقہ پر ذبح نہیں کیا گیا، یا ذبح کے بعد گرم پانی میں اتنی دیر تک رکھا گیا کہ نجاست کے ا ثرات گوشت میں سرایت کرگئے، تو اس کا گوشت حلال وجائز نہیں ہے، اور اگر ان دونوں باتوں میں شک ہے، تو اُس گوشت کا کھانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ گوشت میں اصل حرمت ہے، اور جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ اسے کسی مسلمان نے ذبح کیا ہے، یا ایسے کتابی نے ذبح کیا ہے، جو شرائط ِ شرعیہ کی پابندی کرتا ہے، اس وقت تک اس کو کھانا جائز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : قوله: (وکذا دجاجة الخ) قال في الفتح: إنها لا تطهر أبدًا، لکن علی قول أبي یوسف تطهر، والعلة والله اعلم تشربها النجاسة بواسطة الغلیان، وعلیه اشتهر أن اللحم السمیط بمصر نجس، لکن العلة المذکورة لا تثبت ما لم یمکث اللحم بعد الغلیان زمانًا یقع في مثله التشرّب والدخول في باطن اللحم، وکل منهما غیر متحقق في السمیط حیث لا یصل إلی حدّ الغلیان، ولا یترک فیه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلی ظاهر الجلد لتنحل مسام الصوف، بل لو ترک یمنع انقلاع الشعر۔

(۴۷۱/۱۔۴۷۲، باب الأنجاس، مطلب في تطهیر الدهن والعسل)

ما في ” البحر الرائق “ : ولو ألقیت دجاجة حال الغلیان في الماء قبل أن یشق بطنها النتف أوکرش قبل الغسل لا یطهر أبدًا، لکن علی قول أبي یوسف یجب أن یطهر علی قانون ما تقدم في اللحم، قلت: وهو سبحانه أعلم هو معلل بتشربها النجاسة المتخللة بواسطة الغلیان، وعلی هذا اشتهر أن اللحم السمیط بمصر نجس لا یطهر، لکن العلة المذکورة لا تثبت حتی یصل الماء إلی حد الغلیان، ویمکث فیه اللحم بعد ذلک زمانًا یقع في مثله التشرب والدخول في باطن اللحم، وکل من الأمرین غیر متحقق في السمیط الواقع حیث لا یصل الماء إلی حدّ الغلیان ولا یترک فیه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلی سطح الجلد، فتنحل مسام السطح من الصوف بل ذلک الترک یمنع من وجوده انقلاع الشعر۔

(۴۱۵/۱۔۴۱۶، کتاب الطهارة، باب الأنجاس)

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : قوله: (وعلی هذا الدجاج الخ) یعني لو ألقیت دجاجة حال غلیان الماء قبل أن یشقّ بطنها لتنتف، أو کرش، قیل أن یغسل إن وصل الماء إلی حدّ الغلیان ومکثت فیه بعد ذلک زمانًا یقع في مثله التشرّب والدخول في باطن اللحم لا تطهر أبدًا إلا عند أبي یوسف کما مر في اللحم وإن لم یصل الماء إلی حد الغلیان، أو لم تترک فیه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلی سطح الجلد لانحلال مسام السطح عن الریش والصوف تطهر بالغسل ثلاثًا کما حققه الکمال۔

(ص:۱۶۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس والطهارة منها، فتح القدیر:۲۱۱/۱، کتاب الطهارة، باب الأنجاس وتطهیرها)

 (انعام الباری:۹۹/۶، فتاویٰ دار العلوم ، رقم الفتویٰ : ۴۰۰۹۴)

اوپر تک سکرول کریں۔