میاں بیوی کا آپس میں دی گئیں اشیاء کا طلب کرنا

مسئلہ:

بسااوقات رشتہٴ نکاح طے کرتے وقت لڑکا لڑکی کے خاندانوں کی معیشت ومعاشرت ، خو، بو ، طور ، طریقہ میں یکسانیت کا لحا ظ نہیں کیا جاتا ہے،(۱) جس کی وجہ سے مصالح نکاح کا نظم بر قرار رہنا دشوار ہوتا ہے، اور میاں بیوی کے درمیان تفریق وجدائیگی کی نوبت آجاتی ہے، تو لڑکی اور لڑکے کے والدین عقد نکاح میں دیئے ہوئے کپڑے ، زیورات اور دوسرے اخراجات ایک دوسرے سے مانگتے ہیں، اس سلسلے میں شرعی ہدایت یہ ہے کہ جو چیزیں فریقین نے ایک دوسرے کو بطور تملیک دی تھیں وہ واپس نہیں لی جاسکتیں،(۲) اور جو چیزیں عاریةً دی گئی تھیں وہ واپس لی جاسکتی ہیں،(۳) رہا بوقت نکاح آنے والا خرچ تو وہ واپس نہیں لیا جاسکتا ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : أو تعتبر الکفاء ة للزوم النکاح ۔ الدرالمختار ۔ وفي الشامي: أی علی ظاهر الروایة ولصحة علی روایة الحسن المختارة للفتویٰ۔

(۲۰۹/۴، کتاب النکاح، باب الکفاءة)

ما فی ” مختصر القدوری “ : إن وهب هبة لذی رحم محرم منه فلا رجوع فیها، وکذلک ما وهبه أحد الزوجین للآخر۔ (ص:۱۳۷، کتاب الهبة)

(۲) ما فی ” مختصر القدوری “ : وللمعیر أن یرجع فی العاریة متی شاء۔(ص:۱۴۵، کتاب العاریة)

(۳) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا وهب أحد الزوجین لصاحبه لا یرجع فی الهبة، وإن انقطع النکاح بینهما۔ (۳۸۶/۴، کتاب الهبة، الباب الخامس فی الرجوع فی الهبة)

اوپر تک سکرول کریں۔